فَلَوْلَا
كَانَتْ
قَرْیَةٌ
اٰمَنَتْ
فَنَفَعَهَاۤ
اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا
قَوْمَ
یُوْنُسَ ؕ
لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا
كَشَفْنَا
عَنْهُمْ
عَذَابَ
الْخِزْیِ
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَمَتَّعْنٰهُمْ
اِلٰی
حِیْنٍ
۟
پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتا، یونس کی قوم کے سوا جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک بہرہ مند ہونے کا موقع دیا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭…
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» [36-یس:30] ” بندوں پر افسوس ہے ان
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭…
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰس