فَاِنْ
كُنْتَ
فِیْ
شَكٍّ
مِّمَّاۤ
اَنْزَلْنَاۤ
اِلَیْكَ
فَسْـَٔلِ
الَّذِیْنَ
یَقْرَءُوْنَ
الْكِتٰبَ
مِنْ
قَبْلِكَ ۚ
لَقَدْ
جَآءَكَ
الْحَقُّ
مِنْ
رَّبِّكَ
فَلَا
تَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْمُمْتَرِیْنَ
۟ۙ
پس اگر تم کو اس چیز کے بارے میں شک ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں بے شک یہ تم پر حق آیا ہے تمھارے رب کی طرف سے، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭…
جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ۔
پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کی
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭…
جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت