يونس 10:90 ۞ وجاوزنا ببني اسراييل البحر فاتبعهم فرعون وجنوده بغيا وعدوا حتى اذا ادركه الغرق قال امنت انه لا الاه الا الذي امنت به بنو اسراييل وانا من المسلمين ٩٠
وَجٰوَزْنَا
بِبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
الْبَحْرَ
فَاَتْبَعَهُمْ
فِرْعَوْنُ
وَجُنُوْدُهٗ
بَغْیًا
وَّعَدْوًا ؕ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَدْرَكَهُ
الْغَرَقُ ۙ
قَالَ
اٰمَنْتُ
اَنَّهٗ
لَاۤ
اِلٰهَ
اِلَّا
الَّذِیْۤ
اٰمَنَتْ
بِهٖ
بَنُوْۤا
اِسْرَآءِیْلَ
وَاَنَا
مِنَ
الْمُسْلِمِیْنَ
۟
Aur hum bani Israel ko samandar se guzar le gaye phir Firoun aur uske lashkar zulm aur zyadati ki garz se unke peechey chale hatta ke jab Firoun doobne laga to bol uttha “maine maan liya ke khudawand e haqiqi uske siwa koi nahin hai jispar bani Israel iman laye, aur main bhi sar e itaat jhuka dene walon mein se hoon”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭…
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے ک
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭…
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد م