فَمَاۤ
اٰمَنَ
لِمُوْسٰۤی
اِلَّا
ذُرِّیَّةٌ
مِّنْ
قَوْمِهٖ
عَلٰی
خَوْفٍ
مِّنْ
فِرْعَوْنَ
وَمَلَاۡىِٕهِمْ
اَنْ
یَّفْتِنَهُمْ ؕ
وَاِنَّ
فِرْعَوْنَ
لَعَالٍ
فِی
الْاَرْضِ ۚ
وَاِنَّهٗ
لَمِنَ
الْمُسْرِفِیْنَ
۟
پھر موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے کہ کہیں وہ ان کو کسی فتنہ میں نہ ڈال دے، بے شک فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے گزرجاتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ٭٭…
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبے والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ تھی ہر ایک
بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ٭٭…
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل می