ثُمَّ
بَعَثْنَا
مِنْ
بَعْدِهٖ
رُسُلًا
اِلٰی
قَوْمِهِمْ
فَجَآءُوْهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَمَا
كَانُوْا
لِیُؤْمِنُوْا
بِمَا
كَذَّبُوْا
بِهٖ
مِنْ
قَبْلُ ؕ
كَذٰلِكَ
نَطْبَعُ
عَلٰی
قُلُوْبِ
الْمُعْتَدِیْنَ
۟
پھر ہم نے نوح کے بعد کتنے رسول بھیجے وہ ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے، مگر وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو وه پہلے جھٹلاچکے تھے اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭…
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُ
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭…
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آ