وَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
الضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنْۢبِهٖۤ
اَوْ
قَاعِدًا
اَوْ
قَآىِٕمًا ۚ
فَلَمَّا
كَشَفْنَا
عَنْهُ
ضُرَّهٗ
مَرَّ
كَاَنْ
لَّمْ
یَدْعُنَاۤ
اِلٰی
ضُرٍّ
مَّسَّهٗ ؕ
كَذٰلِكَ
زُیِّنَ
لِلْمُسْرِفِیْنَ
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسا ہوجاتا ہے گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزرجانے والوں کے ليے ان کے اعمال خوش نما بنادئے گئے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭…
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» [41-فصلت:51] یعنی ” جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے “۔
ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہ
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭…
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» [41-فصلت:51] یعنی ” جب انسان