يس 36:30 يا حسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزيون ٣٠
یٰحَسْرَةً
عَلَی
الْعِبَادِ ؔۚ
مَا
یَاْتِیْهِمْ
مِّنْ
رَّسُوْلٍ
اِلَّا
كَانُوْا
بِهٖ
یَسْتَهْزِءُوْنَ
۟
افسوس ہے بندوں کے اوپر، جورسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کامذاق ہی اڑاتے رہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منکرین کی ندامت ٭٭…
بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ باربار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں «یٰحَسرَۃَ العِبَادِ عَلٰی اَنفُسِھَم» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا؟ اور کیوں
منکرین کی ندامت ٭٭…
بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ باربار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں