طه 20:40 اذ تمشي اختك فتقول هل ادلكم على من يكفله فرجعناك الى امك كي تقر عينها ولا تحزن وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا فلبثت سنين في اهل مدين ثم جيت على قدر يا موسى ٤٠
اِذْ
تَمْشِیْۤ
اُخْتُكَ
فَتَقُوْلُ
هَلْ
اَدُلُّكُمْ
عَلٰی
مَنْ
یَّكْفُلُهٗ ؕ
فَرَجَعْنٰكَ
اِلٰۤی
اُمِّكَ
كَیْ
تَقَرَّ
عَیْنُهَا
وَلَا
تَحْزَنَ ؕ۬
وَقَتَلْتَ
نَفْسًا
فَنَجَّیْنٰكَ
مِنَ
الْغَمِّ
وَفَتَنّٰكَ
فُتُوْنًا ۫۬
فَلَبِثْتَ
سِنِیْنَ
فِیْۤ
اَهْلِ
مَدْیَنَ ۙ۬
ثُمَّ
جِئْتَ
عَلٰی
قَدَرٍ
یّٰمُوْسٰی
۟
جب کہ تمھاری بہن چلتی ہوئی آئی، پھر وہ کہنے لگی، کیا میں تم لوگوں کو اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے پس ہم نے تم کو تمھاری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور اس کو غم نہ رہے اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیاپھر، ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی اور ہم نے تم کو خوب جانچا پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے پھر تم ایک اندازہ پر آگئے، اے موسیٰ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسا