آیات:
11
نزول وحی کی جگہ:
مدینہ
سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن
آیت 9 کے فقرے
اِذَا نُوْدِیَ لِصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِسے ماخوذ ہے۔ اگر چہ اس سورہ میں نماز جمعہ کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں، لیکن ’’جمعہ‘‘ بحیثیت مجموعی اس کے مضامین کا عنوان نہیں، بلکہ دوسری سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام بھی علامت ہی کے طور پر ہے۔
پہلے رکوع کا زمانہ نزول 7 ھ سے ، اور غالباً یہ فتح خیبر کے موقع پر یا اس کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نَسائی اور ابن جریر نے حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے جب یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ صلح حُدَیْبیہ کے بعد اور فتح خیبر سے پہلے ایمان لائے تھے۔ اور خیبر کی فتح ابن ہشام کے بقول محرم، اور ابن سعد کے بقول جمادی الاُولیٰ 7 ھ میں ہوئی ہے۔ پس قرین قیاس یہ ہے کہ یہودیوں کے اس آخری گڈھ کو فتح کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائی ہوں گی، یا پھر ان کا نزول اس وقت ہوا ہو گا جب خیبر کا انجام دیکھ کر شمالی حجاز کی تمام یہودی بستیاں اسلامی حکومت کی تابع فرمان بن گئی تھیں۔
دوسرا رکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانے ہی میں نازل ہوا ہے۔ کیونکہ حضورؐ نے مدینہ طیبہ پہنچتے ہی پانچویں روز جمعہ قائم کر دیا تھا، اور اس رکوع کی آخری آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازماً کسی ایسے زمانے ہی میں پیش آیا ہو گا جب لوگوں کو دینی اجتماعات کے آداب کی پوری تربیت ابھی نہیں ملی تھی۔