آیات:
24
نزول وحی کی جگہ:
مدینہ
دوسری آیت کے فقرے
اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُو ا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِسے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ الحشر آیا ہے۔
بخاری و مسلم میں حضرت سعید بن جُبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے سور حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس طرح سورہ انفال غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سعید بن جبیر کی دوسری روایت میں بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ : قل سورۃ النَّضِیْر یعنی یوں کہو کہ یہ سورہ نضیر ہے۔ یہی بات مجاہد، قتادہ، زہری، ابن زید، یزید بن رومان، محمد بن اسحاق وغیرہ حضرات سے بھی مروی ہے۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد نبی النضیر ہی ہیں۔ یزید بن رومان، مجاہد اور محمد بن اسحاق کا قول یہ ہے کہ از اول تا آخر یہ پوری سورۃ اسی غزوہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ یہ غزوہ کب واقع ہوا تھا؟ امام زہری نے اس کے متعلق عُرہ بن زبیر کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ جنگ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا ہے۔ لیکن ابن سعد، ابن ہشام اور بَلَاذُرِی اسے ربیع الاول 4 ہجری کا واقعہ بتاتے ہیں، اور یہی صحیح ہے۔ کیوں کہ تمام روایات اس امر میں متفق ہیں یہ غزوہ بِئرمعونہ کے سانحہ کے بعد پیش آیا تھا، اور یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بئَر معونہ کا سانحہ جنگ احد کے بعد رو نما ہوا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔سورۃ کا موضوع، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے۔ اس میں بحیثیت مجموعی چار مضامین بیان ہوئے ہیں۔
(1)۔ پہلی چار آیتوں میں دنیا کو اس انجام سے عبرت دلائی گئی ہے جو ابھی ابھی بنی نضیر نے دیکھا تھا۔ ایک بڑا قبیلہ جو کے افراد کی تعداد اس وقت مسلمانوں کی تعداد سے کچھ کم نہ تھی، جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھا ہوا تھا، جس کے پاس جنگی سامان کی بھی کمی نہ تھی، جس کی گڑھیاں بڑی مضبوط تھیں، صرف چند روز کے محاصرے کی تاب بی نہ لاسکا اور بغیر اس کے کہ کسی ایک آدمی کے قتل کی بھی نوبت آئی ہوتی وہ اپنی صدیوں کی جمائی بستی چھوڑ کر جلا وطنی قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طاقت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے نبر آزما ہوئے تھے اور جو لوگ اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کی جرأت کریں وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔(2)۔ آیت 5 میں قانون جنگ کا یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے دشمن ے علاقے میں جو تخریبی کار روائی کی جائے وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی۔
(3)۔ آیت 6 سے 10 تک یہ بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی زمینوں اور جائدادوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے جو جنگ یا صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے زیر نگیں آئیں۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک مفتوحہ علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اس لیے یہاں اس کا قانون بیان کر دیا گیا۔(4)۔ آیت 11 سے 17 تک منافقین کے اس رویہ پر تبصرہ کیا گیا ہے جو انہوں نے جنگ بنی نضیر کے موقع پر اختیار کیا تھا، اور ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جو در حقیقت ان کے اس رویہ کی تہ میں کام کر رہے تھے۔
(5)۔ آخری رکوع پورا ایک نصیحت ہے جس کے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کی گروہ میں شامل ہو گئے ہوں، مگر ایمان کی اصل روح سے خالی رہیں۔ اس میں ان کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا کیا ہے، تقویٰ اور فسق میں حقیقی فرق کیا ہے، جو قرآن کو ماننے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے، اور جس خدا پر ایمان لانے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ کن صفات کا حامل ہے۔