آیات:
54
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
تفسیر ابن عاشور سے ماخوذ
یہ مکی سورت بنیادی طور پر منکرین کے مقابلے میں قیامت کے برحق ہونے اور توحید کے اثبات کو اپنا مرکزی موضوع بناتی ہے۔ یہ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی زندگیوں کو شکر گزاری اور دانشمندانہ حکمرانی کے نمونوں کے طور پر پیش کر کے اس مقصد کو حاصل کرتی ہے، اور ان کے ورثے کا موازنہ سبا کی تباہ شدہ سلطنت کی عبرتناک کہانی سے کرتی ہے۔ یہ سورہ تمام چیزوں پر اللہ کے مطلق علم اور کنٹرول کی تصدیق کرتی ہے، اور خبردار کرتی ہے کہ دنیاوی آسانیوں کو لوگوں کو اللہ کے قریب لانا چاہیے۔
دور: جمہور علماء کے نزدیک یہ مکی سورت ہے، اور اس کے مضامین اور اسلوب بھی اس بات کی مضبوط تائید کرتے ہیں۔
سیاق و سباق: یہ سورہ قیامت (دوبارہ زندہ ہونے) کے بارے میں مشرکین کے انکار کے جواب میں نازل ہوئی۔ مقاتل روایت کرتے ہیں کہ ابو سفیان نے موت کے بعد کی زندگی کے تصور کا مذاق اڑایا تھا، جس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔
ترتیبِ نزول: جابر بن زید کی روایتی ترتیبِ نزول میں اسے 58 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ لقمان کے بعد اور الزمر سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: اس سورہ کا قائم شدہ نام "سورۃ سبا" (سبا) ہے۔ اس کا نام سبا کی مشہور قدیم عرب سلطنت کے منفرد اور تفصیلی ذکر پر رکھا گیا ہے، جن کے لوگوں کو ان کی ناشکری کی وجہ سے سزا دی گئی اور انہیں منتشر (تتر بتر) کر دیا گیا تھا۔
آیات کی تعداد: 54 آیات (اکثریت کے مطابق) یا 55 (شام کے مطابق)۔
سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہوتا ہے، اور اختتام اس اعلان پر ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے، یوں آغاز اور اختتام کے درمیان ایک نہایت خوبصورت ربط قائم ہو جاتا ہے۔