سبإ 34:9 افلم يروا الى ما بين ايديهم وما خلفهم من السماء والارض ان نشا نخسف بهم الارض او نسقط عليهم كسفا من السماء ان في ذالك لاية لكل عبد منيب ٩
اَفَلَمْ
یَرَوْا
اِلٰی
مَا
بَیْنَ
اَیْدِیْهِمْ
وَمَا
خَلْفَهُمْ
مِّنَ
السَّمَآءِ
وَالْاَرْضِ ؕ
اِنْ
نَّشَاْ
نَخْسِفْ
بِهِمُ
الْاَرْضَ
اَوْ
نُسْقِطْ
عَلَیْهِمْ
كِسَفًا
مِّنَ
السَّمَآءِ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیَةً
لِّكُلِّ
عَبْدٍ
مُّنِیْبٍ
۟۠
تو کیا انھوں نے آسمان اورزمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے ہے اور ان کے پیچھے بھی اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکڑاگرادیں بے شک اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو متوجہ ہونے والا ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کی جہالت ٭٭…
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو ج
کافروں کی جہالت ٭٭…
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات