🎯 ٹریک پر رہیں!
میرا ہدف بنائیں
🎯 ٹریک پر رہیں!
میرا ہدف بنائیں
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
آپ 34:7 سے 34:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
وقال الذين كفروا هل ندلكم على رجل ينبيكم اذا مزقتم كل ممزق انكم لفي خلق جديد ٧ افترى على الله كذبا ام به جنة بل الذين لا يومنون بالاخرة في العذاب والضلال البعيد ٨ افلم يروا الى ما بين ايديهم وما خلفهم من السماء والارض ان نشا نخسف بهم الارض او نسقط عليهم كسفا من السماء ان في ذالك لاية لكل عبد منيب ٩
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ٧ أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَـٰلِ ٱلْبَعِيدِ ٨ أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ ٩
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
هَلْ
نَدُلُّكُمْ
عَلٰی
رَجُلٍ
یُّنَبِّئُكُمْ
اِذَا
مُزِّقْتُمْ
كُلَّ
مُمَزَّقٍ ۙ
اِنَّكُمْ
لَفِیْ
خَلْقٍ
جَدِیْدٍ
۟ۚ
اَفْتَرٰی
عَلَی
اللّٰهِ
كَذِبًا
اَمْ
بِهٖ
جِنَّةٌ ؕ
بَلِ
الَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
فِی
الْعَذَابِ
وَالضَّلٰلِ
الْبَعِیْدِ
۟
اَفَلَمْ
یَرَوْا
اِلٰی
مَا
بَیْنَ
اَیْدِیْهِمْ
وَمَا
خَلْفَهُمْ
مِّنَ
السَّمَآءِ
وَالْاَرْضِ ؕ
اِنْ
نَّشَاْ
نَخْسِفْ
بِهِمُ
الْاَرْضَ
اَوْ
نُسْقِطْ
عَلَیْهِمْ
كِسَفًا
مِّنَ
السَّمَآءِ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیَةً
لِّكُلِّ
عَبْدٍ
مُّنِیْبٍ
۟۠
3
کافروں کی جہالت ٭٭

کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“

اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔

صفحہ نمبر7151

کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔

جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» [51-الذاريات:47-48] ‏ ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ “

صفحہ نمبر7152

یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔

اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» [36-يس:81] ‏، یعنی ” آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر7153
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں