قُلْ
اِنَّ
رَبِّیْ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَیَقْدِرُ
لَهٗ ؕ
وَمَاۤ
اَنْفَقْتُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ
فَهُوَ
یُخْلِفُهٗ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ
۟
کہو کہ میرارب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے کشادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہےاور جو چیز بھی تم خرچ کروگے تو وہ اس کا بدلہ دے گااور وہ بہتر رزق دینے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭…
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔
جیسے فرمایا «اُنْظُرْ كَيْفَ فَض
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭…
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہ