سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
16:13
قل من رب السماوات والارض قل الله قل افاتخذتم من دونه اولياء لا يملكون لانفسهم نفعا ولا ضرا قل هل يستوي الاعمى والبصير ام هل تستوي الظلمات والنور ام جعلوا لله شركاء خلقوا كخلقه فتشابه الخلق عليهم قل الله خالق كل شيء وهو الواحد القهار ١٦
قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَـٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَـٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَـٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّـٰرُ ١٦
قُلۡ
مَنۡ
رَّبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِؕ
قُلِ
اللّٰهُ​ؕ
قُلۡ
اَفَاتَّخَذۡتُمۡ
مِّنۡ
دُوۡنِهٖۤ
اَوۡلِيَآءَ
لَا
يَمۡلِكُوۡنَ
لِاَنۡفُسِهِمۡ
نَفۡعًا
وَّلَا
ضَرًّا​ؕ
قُلۡ
هَلۡ
يَسۡتَوِى
الۡاَعۡمٰى
وَالۡبَصِيۡرُ ۙ
اَمۡ
هَلۡ
تَسۡتَوِى
الظُّلُمٰتُ
وَالنُّوۡرُ ۚ
اَمۡ
جَعَلُوۡا
لِلّٰهِ
شُرَكَآءَ
خَلَقُوۡا
كَخَلۡقِهٖ
فَتَشَابَهَ
الۡخَـلۡقُ
عَلَيۡهِمۡ​ؕ
قُلِ
اللّٰهُ
خَالِـقُ
كُلِّ
شَىۡءٍ
وَّهُوَ
الۡوَاحِدُ
الۡقَهَّارُ‏ 
١٦
(ان سے) پوچھئے کون ہے آسمانوں اور زمین کا مالک ؟ کہیے اللہ ہی ہے کہیے کیا تم نے اس کو چھوڑ کر ایسے حمایتی بنا لیے ہیں جو خوداپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے (ان سے) پوچھئے کیا برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا ؟ یا کیا برابر ہیں اندھیرے اور روشنی کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرا لیے ہیں جنہوں نے تخلیق کی ہے اس کی تخلیق کی طرح تو یہ تخلیق ان پر مشتبہ ہوگئی ہے کہہ دیجیے کہ اللہ ہی خالق ہے ہر شے کا اور وہ ہے یکتا سب پر حاوی
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
اندھیرا اور روشنی ٭٭

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔ یہ مشرکین بھی اس کے قائل ہیں کہ زمین و آسمان کا رب اور مدبر اللہ ہی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے اولیاء کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ سب عاجز بندے ہیں۔ ان کے تو کیا، خود اپنے بھی نفع نقصان کا انہیں کوئی اختیار نہیں۔ پس یہ اور اللہ کے عابد یکساں نہیں ہو سکتے۔ یہ تو اندھیروں میں ہیں اور بندہ رب نور میں ہے۔ جتنا فرق اندھے میں اور دیکھنے والے میں ہے، جتنا فرق اندھیروں اور روشنی میں ہے اتنا ہی فرق ان دونوں میں ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کس چیز کا خالق اللہ ہے؟ اور کس چیز کے خالق ان کے معبود ہیں؟ حالانکہ ایسا نہیں اللہ کے مشابہ اس جیسا اس کے برابر کا اور اس کی مثل کا کوئی نہیں “۔

وہ وزیر سے، شریک سے، اولاد سے، بیوی سے، پاک ہے اور ان سب سے اس کی ذات بلند و بالا ہے۔ یہ تو مشرکین کی پوری بیوقوفی ہے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کا پیدا کیا ہوا، اس کی مملوک سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک کہ وہ خود تیری ملکیت میں ہے اور جس چیز کا وہ مالک ہے، وہ بھی دراصل تیری ہی ملکیت ہے۔‏“ [صحیح مسلم:1185] ‏

صفحہ نمبر4140

قرآن نے اور جگہ ان کا مقولہ بیان فرمایا ہے کہ «مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» [39-الزمر:3] ‏ یعنی ” ہم تو ان کی عبادت صرف اس لالچ میں کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں “۔

ان کے اس اعتقاد کی رگ گردن توڑتے ہوئے ارشاد ربانی ہوا کہ «وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ‏ ” اس کے پاس کوئی بھی اس کی اجازت بغیر لب نہیں ہلا سکتا۔ آسمانوں کے فرشتے بھی شفاعت اس کی اجازت بغیر کر نہیں سکتے “۔

سورۃ مریم میں فرمایا «إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:93-95] ‏ ” زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ کے سامنے غلام بن کر آنے والی ہے، سب اس کی نگاہ میں اور اس کی گنتی میں ہیں اور ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے قیامت کے دن حاضری دینے والا ہے “۔

پس جبکہ سب کے سب بندے اور غلام ہونے کی حیثیت میں یکساں ہیں پھر ایک کا دوسرے کی عبادت کرنا بڑی حماقت اور کھلی بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر اس نے رسولوں کا سلسلہ شروع دنیا سے جاری رکھا۔ ہر ایک نے لوگوں کو سبق یہ دیا کہ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں لیکن انہوں نے نہ اپنے اقرار کا پاس کیا نہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کا لحاظ کیا، بلکہ مخالفت کی، رسولوں کو جھٹلایا تو کلمہ عذاب ان پر صادق آ گیا۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ‏ ” یہ رب کا ظلم نہیں “۔

صفحہ نمبر4141
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں