سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
28:71
رب اغفر لي ولوالدي ولمن دخل بيتي مومنا وللمومنين والمومنات ولا تزد الظالمين الا تبارا ٢٨
رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًۭا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا ٢٨
رَبِّ
اغۡفِرۡ
لِىۡ
وَلِـوَالِدَىَّ
وَلِمَنۡ
دَخَلَ
بَيۡتِىَ
مُؤۡمِنًا
وَّلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ
وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ
وَلَا
تَزِدِ
الظّٰلِمِيۡنَ
اِلَّا
تَبَارًا‏
٢٨
پروردگار ! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہوجائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی (مغفرت فرمادے) اور ان ظالموں کے لیے ُ تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
آپ 71:25 سے 71:28 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭

«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ” اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا۔ “

جیسے فرمان ہے «قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» [11-ھود:43] ‏ یعنی ” آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جس پر اللہ رحم کرے۔ “

نوح علیہ السلام ان بدنصیبوں کی اپنے قادر و ذوالجلال اللہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا رکھ کر فریاد کرتے ہیں اور اس مالک سے ان پر آفت و عذاب نازل کرنے کی درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ اب تو ان ناشکروں میں سے ایک کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔“

اور یہی ہوا بھی کہ سارے کے سارے غرق کر دیئے گئے یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا جو باپ سے الگ رہا تھا وہ بھی نہ بچ سکا، سمجھا تو یہ تھا کہ پانی میرا کیا بگاڑ لے گا میں کسی بڑے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ پانی تو نہ تھا، وہ تو غضب الٰہی تھا، وہ تو بد دعائے نوح تھا، اس سے بھلا کون بچا سکتا تھا؟ پانی نے اسے وہیں جا لیا اور اپنے باپ کے سامنے باتیں کرتے کرتے ڈوب گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر طوفان نوح میں اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو اس کے لائق وہ عورت تھی جو پانی کو ابلتے اور برستے دیکھ کر اپنے بچے کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی آ گیا ہے تو بچے کو اٹھا کر اپنے مونڈھے پر بٹھا لیا جب پانی وہاں پہنچا تو اس نے بچے کو سر پر اٹھا لیا، جب پانی سر تک جا چڑھا تو اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سر سے بلند کر لیا لیکن آخر پانی وہاں تک جا پہنچا اور ماں بیٹا ڈوب گئے، اگر اس دن زمین کے کافروں میں سے کوئی بھی قابل رحم ہوتا تو یہ عورت تھی مگر یہ بھی نہ بچ سکی نہ ہی بیٹے کو بچا سکی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] ‏ یہ حدیث غریب ہے لیکن راوی اس کے سب ثقہ ہیں۔

صفحہ نمبر9875

الغرض روئے زمین کے کافر غرق کر دیئے گئے۔ صرف وہ باایمان ہستیاں باقی رہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں تھیں اور نوح علیہ السلام نے انہیں اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ چونکہ نوح علیہ السلام کو سخت تلخ اور دیرینہ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے اپنی ناامیدی کو ظاہر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا الٰہی میری چاہت ہے کہ ان تمام کفار کو برباد کر دیا جائے، ان میں سے جو بھی باقی بچ رہا وہی دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے گا اور جو نسل اس کی پھیلے گی وہ بھی اسی جیسی بدکار اور کافر ہو گی۔“ ساتھ ہی اپنے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ”میرے رب! مجھے بخش میرے والدین کو بخش اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں آ جائے اور ہو بھی وہ باایمان۔“ گھر سے مراد مسجد بھی لی ہے لیکن عام مراد یہی ہے۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مومن ہی کے ساتھ بیٹھو، رہو، سہو اور صرف پرہیزگار ہی تیرا کھانا کھائیں۔“ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف اسی اسناد سے یہ حدیث معروف ہے۔

پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”تمام ایماندار مرد و عورت کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ۔“ اسی لیے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ نوح علیہ السلام کی اقتدأ بھی ہو اور ان احادیث پر بھی عمل ہو جائے جو اس بارے میں ہیں اور وہ دعائیں بھی آ جائیں جو منقول ہیں۔

پھر دعا کے خاتمے پر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ان کافروں کو تو تباہی، بربادی، ہلاکت اور نقصان میں ہی بڑھاتا رہ، دنیا و آخرت میں برباد ہی رہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ نوح کی تفسیر بھی ختم ہو گئی۔

صفحہ نمبر9876
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں