مِمَّا
خَطِیْٓـٰٔتِهِمْ
اُغْرِقُوْا
فَاُدْخِلُوْا
نَارًا ۙ۬
فَلَمْ
یَجِدُوْا
لَهُمْ
مِّنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
اَنْصَارًا
۟
اپنے گناہوں کے سبب سے وہ غرق کيے گئے، پھر وہ آگ میں داخل کردئے گئےپس انھوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭…
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ” اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭…
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ” اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے