سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
99:4
فاولايك عسى الله ان يعفو عنهم وكان الله عفوا غفورا ٩٩
فَأُو۟لَـٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًۭا ٩٩
فَاُولٰٓٮِٕكَ
عَسَى
اللّٰهُ
اَنۡ
يَّعۡفُوَ
عَنۡهُمۡ​ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
عَفُوًّا
غَفُوۡرًا‏
٩٩
بعید نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور اللہ واقعتا بخشنے والا اور معاف فرمانے والا ہے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 4:99 سے 4:100 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
باب

ہجرت کی ترغیب دیتے ہوئے اور مشرکوں سے الگ ہونے کی ہدایات کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا ہراساں نہ ہو وہ جہاں جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسباب پناہ تیار کر دے گا اور وہ بہ آرام وہاں اقامت کر سکے گا «مراغم» کے ایک معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بھی ہیں۔

مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔ ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ [صحیح بخاری:54] ‏ یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر1891

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کے بارے میں ہے جس نے ننانوے قتل کئے تھے پھر ایک عابد کو قتل کر کے سو پورے کئے پھر ایک عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا تیری توبہ کے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تو اپنی بستی سے ہجرت کر کے فلاں شہر چلا جا جہاں اللہ کے عابد بندے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہجرت کر کے اس طرف چلا راستہ میں ہی تھا جو موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ [صحیح بخاری:3470] ‏

ایک روایت میں ہے کہ موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ [صحیح مسلم:2766] ‏

صفحہ نمبر1892

مسند احمد کی حدیث میں ہے ” جو شخص اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں انگلیوں یعنی کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی اور انگھوٹھے کو ملا کر کہا۔ پھر فرمایا کہاں ہیں مجاہد؟ پھر وہ اپنی سواری پر سے گر پڑا یا اسے کسی جانور نے کاٹ لیا یا اپنی موت مر گیا تو اس کا ہجرت کا ثواب اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ “ راوی کہتے ہیں اپنی موت مرنے کے لیے جو کلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا واللہ میں نے اس کلمہ کو آپ سے پہلے کسی عربی کی زبانی نہیں سنا اور جو شخص غضب کی حالت میں قتل کیا گیا وہ جگہ کا مستحق ہو گیا۔ [مسند احمد:36/4:ضعیف] ‏

سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن] ‏

یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر1893

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے لیکن آپ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انتقال کر گئے ان کے بارے میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5889/3:] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» [4-النساء:98] ‏ سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔

صفحہ نمبر1894

ابویعلیٰ میں ہے جو شخص حج کے لیے نکلا پھر مر گیا قیامت تک اس کے لیے حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، جو عمرے کے لیے نکلا اور راستے میں فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک عمرے کا اجر لکھا جاتا ہے۔ جو جہاد کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:6357،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ‏ یہ حدیث بھی غریب ہے۔

صفحہ نمبر1895
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں