وَیَقُوْلُ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَوْلَا
نُزِّلَتْ
سُوْرَةٌ ۚ
فَاِذَاۤ
اُنْزِلَتْ
سُوْرَةٌ
مُّحْكَمَةٌ
وَّذُكِرَ
فِیْهَا
الْقِتَالُ ۙ
رَاَیْتَ
الَّذِیْنَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
یَّنْظُرُوْنَ
اِلَیْكَ
نَظَرَ
الْمَغْشِیِّ
عَلَیْهِ
مِنَ
الْمَوْتِ ؕ
فَاَوْلٰى
لَهُمْ
۟ۚ
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی(جس میں جنگ کو حکم دیا جائے)۔ مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھاگئ ہو۔1 افسوس ان کے حال پر
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُ
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس