محمد 47:15 مثل الجنة التي وعد المتقون فيها انهار من ماء غير اسن وانهار من لبن لم يتغير طعمه وانهار من خمر لذة للشاربين وانهار من عسل مصفى ولهم فيها من كل الثمرات ومغفرة من ربهم كمن هو خالد في النار وسقوا ماء حميما فقطع امعاءهم ١٥
مَثَلُ
الْجَنَّةِ
الَّتِیْ
وُعِدَ
الْمُتَّقُوْنَ ؕ
فِیْهَاۤ
اَنْهٰرٌ
مِّنْ
مَّآءٍ
غَیْرِ
اٰسِنٍ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
لَّبَنٍ
لَّمْ
یَتَغَیَّرْ
طَعْمُهٗ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
خَمْرٍ
لَّذَّةٍ
لِّلشّٰرِبِیْنَ ۚ۬
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
عَسَلٍ
مُّصَفًّی ؕ
وَلَهُمْ
فِیْهَا
مِنْ
كُلِّ
الثَّمَرٰتِ
وَمَغْفِرَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهِمْ ؕ
كَمَنْ
هُوَ
خَالِدٌ
فِی
النَّارِ
وَسُقُوْا
مَآءً
حَمِیْمًا
فَقَطَّعَ
اَمْعَآءَهُمْ
۟
جنت کی مثال، جس کاوعدہ ڈرنے والوں سے کیاگیا ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں هيں ایسے پانی کی جس میں تغیرنہ ہوگا اور نہریں ہوں گی دودھ کی جس کا مزہ نہیں بدلا ہوگا اور نہریں ہوں گی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی اور نہریں ہوں گی شہد کی جو بالکل صاف ہوگااور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ہوگیکیایہ لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور ان کوکھولتا ہوا پانی پینے کے لیے دیاجائے گاپس وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
جیسے فرم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ