مَثَلُ
الْجَنَّةِ
الَّتِیْ
وُعِدَ
الْمُتَّقُوْنَ ؕ
فِیْهَاۤ
اَنْهٰرٌ
مِّنْ
مَّآءٍ
غَیْرِ
اٰسِنٍ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
لَّبَنٍ
لَّمْ
یَتَغَیَّرْ
طَعْمُهٗ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
خَمْرٍ
لَّذَّةٍ
لِّلشّٰرِبِیْنَ ۚ۬
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
عَسَلٍ
مُّصَفًّی ؕ
وَلَهُمْ
فِیْهَا
مِنْ
كُلِّ
الثَّمَرٰتِ
وَمَغْفِرَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهِمْ ؕ
كَمَنْ
هُوَ
خَالِدٌ
فِی
النَّارِ
وَسُقُوْا
مَآءً
حَمِیْمًا
فَقَطَّعَ
اَمْعَآءَهُمْ
۟
پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہ رہی ہوں گی نِتھرے ہوئے پانی کی ،1 نہریں بہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا،2 نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیز ہو گی ،3 نہریں بہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔4 اس میں ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔5 (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے)ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
جیسے فرم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ