مَثَلُ
الْجَنَّةِ
الَّتِیْ
وُعِدَ
الْمُتَّقُوْنَ ؕ
فِیْهَاۤ
اَنْهٰرٌ
مِّنْ
مَّآءٍ
غَیْرِ
اٰسِنٍ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
لَّبَنٍ
لَّمْ
یَتَغَیَّرْ
طَعْمُهٗ ۚ
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
خَمْرٍ
لَّذَّةٍ
لِّلشّٰرِبِیْنَ ۚ۬
وَاَنْهٰرٌ
مِّنْ
عَسَلٍ
مُّصَفًّی ؕ
وَلَهُمْ
فِیْهَا
مِنْ
كُلِّ
الثَّمَرٰتِ
وَمَغْفِرَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهِمْ ؕ
كَمَنْ
هُوَ
خَالِدٌ
فِی
النَّارِ
وَسُقُوْا
مَآءً
حَمِیْمًا
فَقَطَّعَ
اَمْعَآءَهُمْ
۟
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔ اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔ اور نہریں ہیں صاف شفاف شہد کی۔ اور (مزید برآں) ان کے لیے ہوں گے اس میں ہر قسم کے پھل اور مغفرت ہوگی ان کے رب کی طرف سے } اُن جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
جیسے فرم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ