سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
68:19
فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا ٦٨
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَٱلشَّيَـٰطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّۭا ٦٨
فَوَرَبِّكَ
لَـنَحۡشُرَنَّهُمۡ
وَالشَّيٰطِيۡنَ
ثُمَّ
لَــنُحۡضِرَنَّهُمۡ
حَوۡلَ
جَهَـنَّمَ
جِثِيًّا​ ۚ‏
٦٨
تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ! ہم ضرور جمع کریں گے انہیں اور تمام شیطانوں کو بھی پھر ہم ضرور حاضر کریں گے انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
آپ 19:66 سے 19:70 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭

بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔

جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» [13-الرعد:5] ‏ یعنی ” اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ “

سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏، ” کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے “۔

صفحہ نمبر5126

یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ” کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ “

پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ‏ ” جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے “۔

صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے “۔ [صحیح بخاری:4974] ‏ جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» [45-الجاثية:28] ‏ ” ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی “۔

صفحہ نمبر5127

ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔

جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:38] ‏ الخ، ” جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر “ الخ۔

پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ” اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ “

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:38] ‏ ” ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو “۔

صفحہ نمبر5128
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں