سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
58:19
اولايك الذين انعم الله عليهم من النبيين من ذرية ادم وممن حملنا مع نوح ومن ذرية ابراهيم واسراييل وممن هدينا واجتبينا اذا تتلى عليهم ايات الرحمان خروا سجدا وبكيا ۩ ٥٨
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍۢ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْرَٰٓءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَٱجْتَبَيْنَآ ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُ ٱلرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدًۭا وَبُكِيًّۭا ۩ ٥٨
اُولٰٓٮِٕكَ
الَّذِيۡنَ
اَنۡعَمَ
اللّٰهُ
عَلَيۡهِمۡ
مِّنَ
النَّبِيّٖنَ
مِنۡ
ذُرِّيَّةِ
اٰدَمَ
وَمِمَّنۡ
حَمَلۡنَا
مَعَ
نُوۡحٍ
وَّمِنۡ
ذُرِّيَّةِ
اِبۡرٰهِيۡمَ
وَاِسۡرَآءِيۡلَ
وَمِمَّنۡ
هَدَيۡنَا
وَاجۡتَبَيۡنَا​ ؕ
اِذَا
تُتۡلٰى
عَلَيۡهِمۡ
اٰيٰتُ
الرَّحۡمٰنِ
خَرُّوۡا
سُجَّدًا
وَّبُكِيًّا ۩
٥٨
یہ ہیں وہ لوگ جن پر انعام فرمایا اللہ نے انبیاء میں سے اولادِآدم ؑ میں سے اور ان لوگوں (کی نسل) میں سے جنہیں سوار کرایا ہم نے (کشتی میں) نوح ؑ کے ساتھ اور ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی نسل میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت دی اور جنہیں ہم نے ُ چن لیا جب تلاوت کی جاتیں ان پر رحمن کی آیات تو وہ گرپڑتے تھے (اللہ کی جناب میں) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
انبیاء کی جماعت کا ذکر ٭٭

فرمان الٰہی ہے کہ ” یہ ہے جماعت انبیاء “ یعنی جن کا ذکر اس سورۃ میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا۔ یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی ادریس «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ»، اور اولاد سے ان کی جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے، اس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم علیہ السلام سے مراد اسحاق، یعقوب، اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ہیں «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔

یہی قول ہے سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمہ اللہ کا، اسی لیے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے کیونکہ ادریس تو نوح علیہ السلام کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں، بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر ادریس علیہ السلام ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ادریس علیہ السلام بنی اسرائیلی نبی ہیں۔

صفحہ نمبر5110

یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں ادریس علیہ السلام کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو نبی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا، نہ کہ صالح ولد، جیسے کہ ابراہیم اور آدم علیہم السلام نے کہا تھا۔

مروی ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل اور معتقد بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لیے قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل سورۃ الانعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یونس علیہ السلام وغیرہ کا ذکر اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ» [6-الأنعام:90] ‏ ” یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی۔ تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتداء کر “۔

اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔

صفحہ نمبر5111

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مجاہد رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا، تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتداء کا حکم کیا گیا ہے اور داؤد علیہ السلام بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4807] ‏

فرمان ہے کہ ” ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل و براہین کو سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔ اسی لیے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتداء ہو جائے۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے سورۃ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا ”سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں“؟ [ابن ابی حاتم اور ابن جریر] ‏

صفحہ نمبر5112
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں