لقمان 31:32 واذا غشيهم موج كالظلل دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجاهم الى البر فمنهم مقتصد وما يجحد باياتنا الا كل ختار كفور ٣٢
وَاِذَا
غَشِیَهُمْ
مَّوْجٌ
كَالظُّلَلِ
دَعَوُا
اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ
لَهُ
الدِّیْنَ ۚ۬
فَلَمَّا
نَجّٰىهُمْ
اِلَی
الْبَرِّ
فَمِنْهُمْ
مُّقْتَصِدٌ ؕ
وَمَا
یَجْحَدُ
بِاٰیٰتِنَاۤ
اِلَّا
كُلُّ
خَتَّارٍ
كَفُوْرٍ
۟
اور جب موت ان کے سر پر بادل کی طرح چھاجاتی ہے، وہ اللہ کو پکارتے ہیں اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں کچھ اعتدال پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں کاانکار وہی لوگ کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکر گزار ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭…
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہ
طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭…
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھت