سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
160:4
فبظلم من الذين هادوا حرمنا عليهم طيبات احلت لهم وبصدهم عن سبيل الله كثيرا ١٦٠
فَبِظُلْمٍۢ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَـٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًۭا ١٦٠
فَبِظُلۡمٍ
مِّنَ
الَّذِيۡنَ
هَادُوۡا
حَرَّمۡنَا
عَلَيۡهِمۡ
طَيِّبٰتٍ
اُحِلَّتۡ
لَهُمۡ
وَبِصَدِّهِمۡ
عَنۡ
سَبِيۡلِ
اللّٰهِ
كَثِيۡرًا ۙ‏
١٦٠
توبسبب ان یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 4:160 سے 4:162 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭

اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے،

دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [3-آل عمران:93] ‏ ” یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ “

اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» [6-الأنعام:146] ‏، ” یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے “

پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔

صفحہ نمبر2069

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔

صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [2-البقرة:177] ‏ الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔

بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» [2-البقرة:4] ‏ پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔

یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔

صفحہ نمبر2070
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں