سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
20:73
۞ ان ربك يعلم انك تقوم ادنى من ثلثي الليل ونصفه وثلثه وطايفة من الذين معك والله يقدر الليل والنهار علم ان لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القران علم ان سيكون منكم مرضى واخرون يضربون في الارض يبتغون من فضل الله واخرون يقاتلون في سبيل الله فاقرءوا ما تيسر منه واقيموا الصلاة واتوا الزكاة واقرضوا الله قرضا حسنا وما تقدموا لانفسكم من خير تجدوه عند الله هو خيرا واعظم اجرا واستغفروا الله ان الله غفور رحيم ٢٠
۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَىِ ٱلَّيْلِ وَنِصْفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٌۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَءَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِى ٱلْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَءَاخَرُونَ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقْرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍۢ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرًۭا وَأَعْظَمَ أَجْرًۭا ۚ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۢ ٢٠
۞ اِنَّ
رَبَّكَ
يَعۡلَمُ
اَنَّكَ
تَقُوۡمُ
اَدۡنىٰ
مِنۡ
ثُلُثَىِ
الَّيۡلِ
وَ نِصۡفَهٗ
وَثُلُثَهٗ
وَطَآٮِٕفَةٌ
مِّنَ
الَّذِيۡنَ
مَعَكَ​ؕ
وَاللّٰهُ
يُقَدِّرُ
الَّيۡلَ
وَالنَّهَارَ​ؕ
عَلِمَ
اَنۡ
لَّنۡ
تُحۡصُوۡهُ
فَتَابَ
عَلَيۡكُمۡ​
فَاقۡرَءُوۡا
مَا
تَيَسَّرَ
مِنَ
الۡقُرۡاٰنِ​ؕ
عَلِمَ
اَنۡ
سَيَكُوۡنُ
مِنۡكُمۡ
مَّرۡضٰى​ۙ
وَاٰخَرُوۡنَ
يَضۡرِبُوۡنَ
فِى
الۡاَرۡضِ
يَبۡتَغُوۡنَ
مِنۡ
فَضۡلِ
اللّٰهِ​ۙ
وَاٰخَرُوۡنَ
يُقَاتِلُوۡنَ
فِىۡ
سَبِيۡلِ
اللّٰهِ ۖ
فَاقۡرَءُوۡا
مَا
تَيَسَّرَ
مِنۡهُ​ ۙ
وَاَقِيۡمُوا
الصَّلٰوةَ
وَاٰتُوا
الزَّكٰوةَ
وَاَقۡرِضُوا
اللّٰهَ
قَرۡضًا
حَسَنًا​ ؕ
وَمَا
تُقَدِّمُوۡا
لِاَنۡفُسِكُمۡ
مِّنۡ
خَيۡرٍ
تَجِدُوۡهُ
عِنۡدَ
اللّٰهِ
هُوَ
خَيۡرًا
وَّاَعۡظَمَ
اَجۡرًا​ ؕ
وَاسۡتَغۡفِرُوا
اللّٰهَ ​ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِيۡمٌ‏
٢٠
(اے نبی ﷺ !) یقینا آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ان میں سے بھی ایک جماعت آپ کے ساتھ (کھڑی) ہوتی ہے۔ اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کی پابندی نہیں کرسکو گے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی ہے تو اب قرآن سے جتنا بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں کچھ لوگ مریض ہوں گے اور بعض دوسرے زمین میں سفر کریں گے اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے چناچہ جس قدر تمہارے لیے آسان ہو اس میں سے پڑھ لیا کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو۔ اور جو بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے اپنی جانوں کے لیے اسے موجود پائو گے اللہ کے پاس بہتر اور اجر میں بڑھ کر۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا رحمت فرمانے والا ہے۔
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 73:19 سے 73:20 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل ٭٭

فرماتا ہے کہ ” یہ سورۃ عقلمندوں کے لیے سراسر نصیحت و عبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا۔ “ جیسے دوسری سورۃ میں فرمایا «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا» [76-الإنسان:30] ‏ ” تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے، صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ “

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ “ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔

یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ‏ [17-الإسراء:110] ‏ ” نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔“

صفحہ نمبر9950
نماز میں سورۂ فاتحہ ٭٭

امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہے اور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے کہ بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے۔“ [صحیح بخاری:397] ‏

صفحہ نمبر9951

یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورۃ فاتحہ پڑھے۔ [صحیح بخاری:756] ‏

اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ [صحیح مسلم:385] ‏

صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] ‏ (‏پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔

صفحہ نمبر9952
مکہ میں جہاد کی پیشن گوئی ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں۔ “ مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں، مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں۔

یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔

صفحہ نمبر9953

ابورجاء محمد رحمہ اللہ نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ”اے ابوسعید! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟“ آپ نے فرمایا ”اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لیے فرمایا کہ «وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ» [12-یوسف:68] ‏ ” وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے “ اور فرمایا «وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ» [6-الأنعام:91] ‏ ” تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ “ میں نے کہا، ابوسعید! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ” جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو۔ “ فرمایا: ”ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو۔“

پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ [صحیح بخاری:1144] ‏ اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔

سنن کی حدیث میں ہے اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری روایت میں ہے جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ گو سو ہی آیتیں ہوں۔ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔

صفحہ نمبر9954

پھر ارشاد ہے کہ ” فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو۔ “ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائے؟ نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ [صحیح بخاری:46] ‏

پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ “ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ‏ ” ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔“ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔

ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔‏“ یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6442] ‏

پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9955
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں