سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
16:87
بل توثرون الحياة الدنيا ١٦
بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ١٦
بَلۡ
تُؤۡثِرُوۡنَ
الۡحَيٰوةَ
الدُّنۡيَا ۖ‏
١٦
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
آپ 87:14 سے 87:19 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں