سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
25:18
ولبثوا في كهفهم ثلاث ماية سنين وازدادوا تسعا ٢٥
وَلَبِثُوا۟ فِى كَهْفِهِمْ ثَلَـٰثَ مِا۟ئَةٍۢ سِنِينَ وَٱزْدَادُوا۟ تِسْعًۭا ٢٥
وَلَبِثُوۡا
فِىۡ
كَهۡفِهِمۡ
ثَلٰثَ
مِائَةٍ
سِنِيۡنَ
وَازۡدَادُوۡا
تِسۡعًا‏ 
٢٥
اور وہ رہے اپنی غار میں تین سو برس اور اس کے اوپر نو برس
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 18:25 سے 18:26 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

صفحہ نمبر4879

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4880

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔

صفحہ نمبر4881
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں