سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
13:17
وكل انسان الزمناه طايره في عنقه ونخرج له يوم القيامة كتابا يلقاه منشورا ١٣
وَكُلَّ إِنسَـٰنٍ أَلْزَمْنَـٰهُ طَـٰٓئِرَهُۥ فِى عُنُقِهِۦ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ كِتَـٰبًۭا يَلْقَىٰهُ مَنشُورًا ١٣
وَكُلَّ
اِنۡسَانٍ
اَلۡزَمۡنٰهُ
طٰۤٮِٕرَهٗ
فِىۡ
عُنُقِهٖ​ؕ
وَنُخۡرِجُ
لَهٗ
يَوۡمَ
الۡقِيٰمَةِ
كِتٰبًا
يَّلۡقٰٮهُ
مَنۡشُوۡرًا‏
١٣
اور ہر انسان کی قسمت چپکا دی ہے ہم نے اس کی گردن میں اور ہم نکال لیں گے اس کے لیے قیامت کے روز (اسے) ایک کتاب (کی شکل میں) وہ پائے گا اسے کھلی ہوئی
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
آپ 17:13 سے 17:14 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
انسان کے اعمال ٭٭

اوپر کی آیتوں میں زمانے کا ذکر کیا جس میں انسان کے اعمال ہوتے ہیں اب یہاں فرمایا ہے کہ اس کا جو عمل ہوتا ہے بھلا ہو یا برا وہ اس پر چپک جاتا ہے بدلہ ملے گا۔ نیکی کا نیک۔ بدی کا بد۔ خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں کیوں نہ ہو؟ جیسے فرمان ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [99-الزلزلة:7-8] ‏ ” ذرہ برابر کی خیر اور اتنی ہی شر ہر شخص قیامت کے دن دیکھ لے گا۔ “

اور جیسے فرمان ہے «‏إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» ‏ [50-ق:17-18] ‏ ” دائیں اور بائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو بات منہ سے نکلے وہ اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ “

اور جگہ ہے آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ * كِرَامًا كَاتِبِينَ * يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ * إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ * وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» ‏ [82-الإنفطار:10] ‏ ” تم پر نگہبان ہیں جو بزرگ ہیں اور لکھنے والے ہیں۔ تمہارے ہر ہر فعل سے باخبر ہیں۔ “

اور آیت میں ہے «إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:16] ‏ ” تمہیں صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ “

اور جگہ ہے «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ» [4-النساء:123] ‏ ” ہر برائی کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔ “

مقصود یہ کہ ابن آدم کے چھوٹے بڑے ظاہر و باطن نیک و بد اعمال صبح شام دن رات برابر لکھے جا رہے ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں البتہ ہر انسان کی شامت عمل اس کی گردن میں ہے۔ ابن لہیعہ فرماتے ہیں یہاں تک کہ شگون لینا بھی۔ [مسند احمد:360/3،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس حدیث کی یہ تفسیر غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4642

اس کے اعمال کے مجموعے کی کتاب قیامت کے دن یا تو اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی یا بائیں میں۔ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بروں کے بائیں ہاتھ میں کھلی ہوئی ہو گی کہ وہ بھی پڑھ لے اور دوسرے بھی دیکھ لیں اس کی تمام عمر کے کل عمل اس میں لکھے ہوئے ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ‏ [75-القيامة:13-15] ‏ ” اس دن انسان اپنے تمام اگلے پچھلے اعمال سے خبردار کر دیا جائے گا انسان تو اپنے معاملے میں خود ہی حجت ہے گو اپنی بےگناہی کے کتنے ہی بہانے پیش کر دے۔ “

اس وقت اس سے فرمایا جائے گا کہ تو خوب جانتا ہے کہ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اس میں وہی لکھا گیا ہے جو تو نے کیا ہے اس وقت چونکہ بھولی بسری چیزیں بھی یاد آ جائیں گی۔ اس لیے درحقیقت کوئی عذر پیش کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ پھر سامنے کتاب ہے جو پڑھ رہا ہے خواہ وہ دنیا میں ان پڑھ ہی تھا لیکن آج ہر شخص اسے پڑھ لے گا۔ گردن کا ذکر خاص طریقے پر اس لیے کیا کہ وہ ایک مخصوص حصہ ہے اس میں جو چیز لٹکا دی گئی ہو چپک گئی ضروری ہو گئی شاعروں نے بھی اس خیال کو ظاہر کیا ہے۔

صفحہ نمبر4643

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیماری کا متعدی ہونا کوئی چیز نہیں، فال کوئی چیز نہیں، ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22131] ‏

اور روایت میں ہے کہ ہر انسان کا شگون اس کے گلے کا ہار ہے۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف] ‏

آپ کا فرمان ہے کہ ہر دن کے عمل پر مہر لگ جاتی ہے جب مومن بیمار پڑتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے اللہ تو نے فلاں کو تو روک لیا ہے اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے اس کے جو عمل تھے وہ برابر لکھتے جاؤ یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا فوت کر دوں۔ [مسند احمد:146/4:صحیح] ‏

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں «طَائِرَهُ» سے مراد عمل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اے ابن آدم تیرے دائیں بائیں فرشتے بیٹھے ہیں صحیفے کھلے رکھے ہیں داہنی جانب والا نیکیاں اور بائیں طرف والا بدیاں لکھ رہا ہے اب تجھے اختیار ہے نیکی کر یا بدی کر کم کر یا زیادہ تیری موت پر یہ دفتر لپیٹ دئے جائیں گے اور تیری قبر میں تیری گردن میں لٹکا دیئے جائیں گے قیامت کے دن کھلے ہوئے تیرے سامنے پیش کر دئے جائیں گے اور تجھ سے کہا جائے گا لے اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور تو ہی حساب اور انصاف کر لے۔ اللہ کی قسم وہ بڑا ہی عادل ہے جو تیرا معاملہ تیرے ہی سپرد کر رہا ہے۔

صفحہ نمبر4644
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں