سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
59:28
وما كان ربك مهلك القرى حتى يبعث في امها رسولا يتلو عليهم اياتنا وما كنا مهلكي القرى الا واهلها ظالمون ٥٩
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَـٰلِمُونَ ٥٩
وَ مَا
كَانَ
رَبُّكَ
مُهۡلِكَ
الۡقُرٰى
حَتّٰى
يَبۡعَثَ
فِىۡۤ
اُمِّهَا
رَسُوۡلًا
يَّتۡلُوۡا
عَلَيۡهِمۡ
اٰيٰتِنَا​ ۚ
وَمَا
كُنَّا
مُهۡلِكِى
الۡقُرٰٓى
اِلَّا
وَاَهۡلُهَا
ظٰلِمُوۡنَ‏
٥٩
اور نہیں تھا آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو پڑھ کر سناتا تھا ہماری آیات اور ہم ہرگز ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں تھے مگر اس بنا پر کہ ان کے باسی ظالم تھے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:58 سے 28:59 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭

اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112-113] ‏، یہاں فرماتا ہے کہ ” ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک اجڑی پڑی ہیں۔ کچھ یونہی سی آبادی اگرچہ ہو گئی ہو لیکن دیکھو ان کے کھنڈرات سے آج تک وحشت برس رہی ہے ہم ہی ان کے مالک رہ گئے ہیں “۔

کعب رحمہ اللہ [تابعی] ‏ کا قول ہے کہ ”الو سے سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”تو کھیتی اناج کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے پوچھا ”پانی کیوں نہیں پیتا؟“ کہا اس لیے کہ قوم نوح علیہ السلام اسی میں ڈبودی گئی۔ پوچھا ”ویرانے میں کیوں رہتا ہے؟“ کہا اس لیے کہ وہ اللہ کی میراث ہے۔ پھر کعب رحمہ اللہ نے آیت «وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ» [28-القص:58] ‏ پڑھا۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل وانصاف کو بیان فرما رہا ہے کہ ” وہ کسی کے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا پہلے ان پر اپنی حجت ختم کرتا ہے اور ان کا عذر دور کرتا ہے۔ رسولوں کو بھیج کر اپنا کلام ان تک پہنچاتا ہے “۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عام تھی آپ ام القریٰ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور تمام عرب وعجم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے فرمان ہے آیت «لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا» [42-الشورى:7] ‏ ” تاکہ تو مکہ والوں کو اور دوسرے شہر والوں کو ڈرادے “

اور فرمایا آیت «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَ‌سُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ» [7-الأعراف:158] ‏ ” کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “

اور آیت میں ہے «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ اس قرآن سے میں تمہیں بھی ڈرادوں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ قرآن پہنچے “۔

صفحہ نمبر6613

اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [11-ھود:17] ‏ ” اس قرآن کے ساتھ دنیا والوں میں سے جو بھی کفر کریں اس کے وعدے کی جگہ جہنم ہے “۔

اور جگہ اللہ کا فرمان ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» [17-الإسراء:58] ‏، یعنی ” تمام بستیوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب کرنے والے ہیں “۔ پس خبر دی کہ قیامت سے پہلے وہ سب بستیوں کو برباد کر دے گا۔

اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [17-الإسراء:15] ‏ کہ ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو عام کر دیا اور تمام جہاں کے لیے کر دیا اور مکہ میں جو کہ تمام دنیا کا مرکز ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ساری دنیا پر اپنی حجت ختم کر دی۔

بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ میں تمام سیاہ سفید کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:521] ‏

اسی لیے نبوت ورسالت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ کہا گیا کہ مراد «اُمُّ الْقُرَىٰ» سے اصل اور بڑا قریہ ہے۔

صفحہ نمبر6614
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں