التوبة 9:127 واذا ما انزلت سورة نظر بعضهم الى بعض هل يراكم من احد ثم انصرفوا صرف الله قلوبهم بانهم قوم لا يفقهون ١٢٧
وَاِذَا
مَاۤ
اُنْزِلَتْ
سُوْرَةٌ
نَّظَرَ
بَعْضُهُمْ
اِلٰی
بَعْضٍ ؕ
هَلْ
یَرٰىكُمْ
مِّنْ
اَحَدٍ
ثُمَّ
انْصَرَفُوْا ؕ
صَرَفَ
اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ
بِاَنَّهُمْ
قَوْمٌ
لَّا
یَفْقَهُوْنَ
۟
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ وہاں سے کھسک جاتے ہیں (دراصل) اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ ب
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔