سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
2:25
الذي له ملك السماوات والارض ولم يتخذ ولدا ولم يكن له شريك في الملك وخلق كل شيء فقدره تقديرا ٢
ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًۭا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌۭ فِى ٱلْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍۢ فَقَدَّرَهُۥ تَقْدِيرًۭا ٢
اۨلَّذِىۡ
لَهٗ
مُلۡكُ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ
وَلَمۡ
يَتَّخِذۡ
وَلَدًا
وَّلَمۡ
يَكُنۡ
لَّهٗ
شَرِيۡكٌ
فِى
الۡمُلۡكِ
وَخَلَقَ
كُلَّ
شَىۡءٍ
فَقَدَّرَهٗ
تَقۡدِيۡرًا‏ 
٢
وہ ہستی جس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے حکومت (کے اختیارات) میں اور اسی نے ہر شے کو پیدا کیا اور پھر اس کے لیے ایک اندازہ مقررہ کیا
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 25:1 سے 25:2 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔

سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» [4-النساء:136] ‏ پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔

جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔

قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [17-الإسراء:1] ‏

اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» [72-الجن:19] ‏ ” اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں “ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔

صفحہ نمبر6001

پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔

آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:521] ‏ اور فرمان ہے: مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» [7-الأعراف:158] ‏ ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ “

پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔

صفحہ نمبر6002
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں