تفسیر ابن عاشور سے ماخوذ
موضوعات اور مقصد:
یہ مکی سورت قرآن کے الٰہی کلام ہونے کی سچائی، اللہ کی کامل وحدانیت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کی حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔ یہ گزشتہ اقوام (جیسے قومِ نوح اور قومِ عاد) کی ہلاکت کا ذکر کر کے منکروں کو سخت تنبیہ کرتی ہے، اور حضرت ابراہیمؑ کی دعا کو مکہ کے مشرکین کے خلاف ایک مرکزی استدلال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
نزول کا پس منظر:
زمانہ: اکثریتی رائے کے مطابق مکی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ چند آیات (28 سے 29/30 تک) مدنی ہیں کیونکہ وہ بدر کے موقع پر مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھیں۔ ابن عاشور کا موقف یہ ہے کہ اگرچہ ان آیات کو آنے والی جنگِ بدر کے ایک اشارے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نزول کی تاریخ بعد کی ہو۔
ترتیبِ نزول: مشہور ترتیبِ نزول کے مطابق، جو جابر بن زیدؒ سے منقول ہے، اسے 70ویں سورت شمار کیا گیا ہے۔ یہ سورۃ الشوریٰ کے بعد اور سورۃ الانبیاء سے پہلے نازل ہوئی۔
نام اور آیات کی تعداد:
نام: اس سورت کا واحد معروف نام "سورۃ ابراہیم" ہے۔ اس کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا ہے، جن کی مکہ کے لیے مانگی گئی دعا اس میں موجود ہے، اور تاکہ اسے "الر" سے شروع ہونے والی دیگر سورتوں (جیسے یونس اور ہود) سے ممتاز کیا جا سکے۔
آیات کی تعداد: 52 (کوفہ)، 54 (مدینہ)، 50 (شام)، یا 51 (بصرہ)۔
سورة کا خلاصہ:
- قرآن کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے اور اس کے اس مقصد کو واضح کرنا کہ وہ انسانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ [1-4]
- رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا کہ آپ ﷺ کا انسان رسول ہونا سابقہ رسولوں، جیسے حضرت موسیٰؑ، کے طریقے کے مطابق ہے، جنہیں بھی انکار کا سامنا کرنا پڑا؛ ساتھ ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر گزار ہونے کی یاد دہانی کرانا۔ [5-8]
- انکار کے طریقے اور سابقہ قوموں کے انجام کے ذریعے تنبیہ کرنا، جن میں قومِ نوحؑ، قومِ عاد اور ان کے بعد آنے والی قومیں شامل ہیں۔ [9-15]
- اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کامل قدرت کو بیان کرنا، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور موجودہ مخلوق کی جگہ نئی مخلوق لانے پر بھی قادر ہے۔ [19-20]
- قیامت کے دن کی منظر کشی کرنا: پیروکار اور ان کے سردار ایک دوسرے سے جھگڑیں گے، جبکہ شیطان انہیں گمراہ کرنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کرے گا۔ [21-22]
- پاکیزہ کلمے اور ناپاک کلمے کی مثال بیان کرنا، جو ایمان اور کفر کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ [24-27]
- مکہ کے ان سرداروں کی مذمت کرنا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف لے گئے۔ [28-30]
- اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا، تاکہ لوگوں کو اس کی عبادت اور اس کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ [32-34]
- حضرت ابراہیمؑ کی مکہ کے لیے دعا اور ان کی توحید سے وابستگی کو نمایاں کرنا، جو سچے ایمان اور عبادت کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے۔ [35-41]
- قرآن کے عالمگیر پیغام پر اختتام کرنا: “یہ تمام انسانوں کے لیے ایک پیغام ہے…” [52]