قَالُوْا
یٰشُعَیْبُ
اَصَلٰوتُكَ
تَاْمُرُكَ
اَنْ
نَّتْرُكَ
مَا
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُنَاۤ
اَوْ
اَنْ
نَّفْعَلَ
فِیْۤ
اَمْوَالِنَا
مَا
نَشٰٓؤُا ؕ
اِنَّكَ
لَاَنْتَ
الْحَلِیْمُ
الرَّشِیْدُ
۟
انھوں نے کہا کہ اے شعیب، کیا تمھاری نماز تم کو یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں بس تم ہی تو ایک دانش مند اور نیک چلن آدمی ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭…
اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭…
اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے