وَلَاۤ
اَقُوْلُ
لَكُمْ
عِنْدِیْ
خَزَآىِٕنُ
اللّٰهِ
وَلَاۤ
اَعْلَمُ
الْغَیْبَ
وَلَاۤ
اَقُوْلُ
اِنِّیْ
مَلَكٌ
وَّلَاۤ
اَقُوْلُ
لِلَّذِیْنَ
تَزْدَرِیْۤ
اَعْیُنُكُمْ
لَنْ
یُّؤْتِیَهُمُ
اللّٰهُ
خَیْرًا ؕ
اَللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ ۖۚ
اِنِّیْۤ
اِذًا
لَّمِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کی خبر رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جو لوگ تمھاری نگاہوں میں حقیر ہیں ، ان کو اللہ کوئی بھلائی نہیں دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اگر میں ایسا کہوں تو میں ہی ظالم ہوں گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ٭٭…
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور توحید کی طرف اس کے فرمان کے مطابق تم سب کو بلاتا ہوں۔ اس سے میری مراد تم سے مال سمیٹنا نہیں۔ ہر بڑے چھوٹے کے لیے میری دعوت عام ہے جو قبول کرے گا نجات پائے گا۔
میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ٭٭…
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور توحید کی