وَیٰقَوْمِ
لَاۤ
اَسْـَٔلُكُمْ
عَلَیْهِ
مَالًا ؕ
اِنْ
اَجْرِیَ
اِلَّا
عَلَی
اللّٰهِ
وَمَاۤ
اَنَا
بِطَارِدِ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا ؕ
اِنَّهُمْ
مُّلٰقُوْا
رَبِّهِمْ
وَلٰكِنِّیْۤ
اَرٰىكُمْ
قَوْمًا
تَجْهَلُوْنَ
۟
اور اے میری قوم، میں اس پر تم سے کچھ مال نہیں مانگتا میرا اجر تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور میں ہر گز ان کو اپنے سے دور کرنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں ان لوگوں کو اپنے رب سے ملنا ہے مگر میں دیکھتا ہوں تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭…
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دے دوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔“
یہی ط
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭…
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے ن