قَالَ
یٰقَوْمِ
اَرَءَیْتُمْ
اِنْ
كُنْتُ
عَلٰی
بَیِّنَةٍ
مِّنْ
رَّبِّیْ
وَاٰتٰىنِیْ
رَحْمَةً
مِّنْ
عِنْدِهٖ
فَعُمِّیَتْ
عَلَیْكُمْ ؕ
اَنُلْزِمُكُمُوْهَا
وَاَنْتُمْ
لَهَا
كٰرِهُوْنَ
۟
نوح نے کہا اے میری قوم، بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھ پر اپنے پاس سے رحمت بھیجی ہے، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو کیا ہم اس کو تم پر چپکاسکتے ہیں جب کہ تم اس سے بیزار ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
بلااجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک ٭٭…
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا کہ ”سچی نبوت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آ چکی ہے۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم
بلااجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک ٭٭…
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا کہ ”سچی نبوت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آ چکی ہے۔ بہت بڑ