سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
21:22
ولهم مقامع من حديد ٢١
وَلَهُم مَّقَـٰمِعُ مِنْ حَدِيدٍۢ ٢١
وَلَهُمۡ
مَّقَامِعُ
مِنۡ
حَدِيۡدٍ‏
٢١
اور ان (کی سرکوبی) کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
آپ 22:19 سے 22:22 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
مومن و کافر کی مثال ٭٭

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے ۔ [صحیح بخاری:3966] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏“ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید ۔ [صحیح بخاری:4744] ‏

اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔

صفحہ نمبر5577

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔ ترمذی میں ہے کہ اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے ۔ [مسند احمد:29/3:ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں ۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔

صفحہ نمبر5578

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ”جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏“

فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏“

جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [32-السجدة:20] ‏ ” ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے “۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔

صفحہ نمبر5579
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں