وَلَقَدْ
جَآءَكُمْ
یُوْسُفُ
مِنْ
قَبْلُ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَمَا
زِلْتُمْ
فِیْ
شَكٍّ
مِّمَّا
جَآءَكُمْ
بِهٖ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
هَلَكَ
قُلْتُمْ
لَنْ
یَّبْعَثَ
اللّٰهُ
مِنْ
بَعْدِهٖ
رَسُوْلًا ؕ
كَذٰلِكَ
یُضِلُّ
اللّٰهُ
مَنْ
هُوَ
مُسْرِفٌ
مُّرْتَابُ
۟ۚۖ
اور اس سے پہلے یوسف تمھارے پاس کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ آئے تو تم ان کی لائی ہوئی باتوں کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے،یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم نے کہا کہ اللہ ان کے بعد ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت ٭٭…
اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت ٭٭…
اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر