وَلَوْ
یُؤَاخِذُ
اللّٰهُ
النَّاسَ
بِمَا
كَسَبُوْا
مَا
تَرَكَ
عَلٰی
ظَهْرِهَا
مِنْ
دَآبَّةٍ
وَّلٰكِنْ
یُّؤَخِّرُهُمْ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
مُّسَمًّی ۚ
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُهُمْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِعِبَادِهٖ
بَصِیْرًا
۟۠
اور اگر لوگوں کے اعمال پر اللہ ان کو پکڑتا تو زمین پر وہ ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہےپھر جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ ک
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک