فاطر 35:45 ولو يواخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دابة ولاكن يوخرهم الى اجل مسمى فاذا جاء اجلهم فان الله كان بعباده بصيرا ٤٥
وَلَوْ
یُؤَاخِذُ
اللّٰهُ
النَّاسَ
بِمَا
كَسَبُوْا
مَا
تَرَكَ
عَلٰی
ظَهْرِهَا
مِنْ
دَآبَّةٍ
وَّلٰكِنْ
یُّؤَخِّرُهُمْ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
مُّسَمًّی ۚ
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُهُمْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِعِبَادِهٖ
بَصِیْرًا
۟۠
اور اگر اللہ (فوری) گرفت کرتا لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس (زمین) کی پشت پر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ موخر کرتا رہتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک پھر جب ان کا وقت ِمعین ّآ جائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے حالات کو خود دیکھنے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ ک
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک