وَمَا
یَسْتَوِی
الْبَحْرٰنِ ۖۗ
هٰذَا
عَذْبٌ
فُرَاتٌ
سَآىِٕغٌ
شَرَابُهٗ
وَهٰذَا
مِلْحٌ
اُجَاجٌ ؕ
وَمِنْ
كُلٍّ
تَاْكُلُوْنَ
لَحْمًا
طَرِیًّا
وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ
حِلْیَةً
تَلْبَسُوْنَهَا ۚ
وَتَرَی
الْفُلْكَ
فِیْهِ
مَوَاخِرَ
لِتَبْتَغُوْا
مِنْ
فَضْلِهٖ
وَلَعَلَّكُمْ
تَشْكُرُوْنَ
۟
اور دونوں دریایکساں نہیں یہ میٹھا ہے، پیاس بجھانے والا،پینے کے لیے خوش گواراور یہ کھاری کڑوا ہے اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور زینت کی چیز نکالتے ہوجس کو تم پہنتے ہواور تم دیکھتے ہو جہازوں کو کہ وہ اس میں پھاڑتے ہوئے چلتے ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
قدرت الٰہی ٭٭…
مختلف قسم کی چیزوں کی پیدائش کو بیان فرما کر اپنی زبردست قدرت کو ثابت کر رہا ہے۔ دو قسم کے دریا پیدا کر دیئے ایک تو صاف ستھرا میٹھا اور عمدہ پانی جو آبادیوں میں جنگلوں میں برابر بہہ رہا ہے اور دوسرا ساکن دریا جس کا پانی کھاری اور کڑوا ہے جس میں بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز چل رہے ہیں اور دون
قدرت الٰہی ٭٭…
مختلف قسم کی چیزوں کی پیدائش کو بیان فرما کر اپنی زبردست قدرت کو ثابت کر رہا ہے۔ دو قسم کے دریا پیدا کر دیئے ایک تو صاف ستھرا میٹھا اور ع