اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی : اے میرے پروردگار ! اس گھر کو امن کی جگہ بنا دے اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل (ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اس کو بھی میں دنیا کی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا پھر اسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
–سورہ البقرة [2:126]
الله توكلنا ربنا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين ٨٥ ونجنا برحمتك من القوم الكافرين ٨٦
تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ پر توکلّ کیا۔ اے ہمارے رب ! تو ہمیں ان ظالموں کے لیے تختۂ مشق نہ بنا دے۔ (85) اور ہمیں اپنی رحمت سے اس کافر قوم سے نجات عطا فرما (86)
–سورہ يونس [10:85-86]
نجني من القوم الظالمين ٢١
نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٢١
نَجِّنِیْ
مِنَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟۠
تو وہ نکلا وہاں سے ڈرتے ڈرتے بڑا چوکنا ہو کر اور اس نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں کی قوم سے نجات دے دے
–سورہ القصص [28:21]
ابن لي عندك بيتا في الجنة ونجني من فرعون وعمله ونجني من القوم الظالمين ١١
اور اہل ِا یمان (خواتین) کے لیے اللہ نے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی۔ جب اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! ُ تو میرے لیے بنا دے اپنے پاس ایک گھر جنت میں اور مجھے نجات دے دے فرعون سے بھی اور اس کے عمل سے بھی اور مجھے اس ظالم قوم سے (جلد از جلد) چھٹکارا دلا دے۔