انسانیت کے لیے پیغام: انسان کی جستجو، اسلام کی رہنمائی

ہر دور اور ہر تہذیب میں انسان زندگی کے ایسے معنی تلاش کرتا رہا ہے جو بدلتے حالات کے ساتھ بدل نہ جائیں، ایسا انصاف جو طاقت کے آگے جھک نہ جائے، اور ایسی سچائی جو زمانے اور جگہ کی پابند نہ ہو۔ کچھ سوال ہمیشہ سے اس کے ساتھ رہے ہیں: ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہمیں سب سے بڑھ کر کس کا وفادار ہونا چاہیے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اسلام ان سوالوں کا جواب محض کسی تہذیبی شناخت یا ورثے میں ملی روایت کے طور پر نہیں دیتا۔ وہ اللہ کی ہدایت کے طور پر پوری انسانیت سے مخاطب ہوتا ہے۔
جہاں انسان الجھن میں پڑ جاتا ہے، اسلام اسے واضح راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد ایک خالق کی عبادت ہے، اچھے اور برے کا معیار انسانی خواہش نہیں بلکہ اللہ کی وحی ہے، اور انسانی زندگی ایک ایسے طویل سفر کا حصہ ہے جو موت پر ختم نہیں ہوتا۔ انسان کا تعلق کسی بھی قوم، خطے یا معاشرے سے ہو، اسلام اسے اپنے خالق کو پہچاننے، اس کی ہدایت پر چلنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اسلام کا مطلب کیا ہے، اور اس کا پیغام سب کے لیے کیوں ہے؟
لفظ "اسلام" عربی مادے "س ل م" سے نکلا ہے، جس میں فرمانبرداری اور سلامتی کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اسلام کا مطلب ہے اللہ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا؛ یعنی خوش دلی سے اس کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا۔ مسلمان وہ ہے جو صرف اللہ کی بندگی اختیار کرے اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے انکار کرے۔
یہ دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے، کیونکہ اللہ ہی سب کا خالق ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی آخری اور محفوظ وحی، قرآن مجید میں فرماتا ہے:
اسلام یہ نہیں کہتا کہ تمام عقیدے یکساں طور پر درست ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ حق ایک ہے، لیکن اسے پانے کا راستہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو سچے دل سے اس کی تلاش کرے۔ ہدایت کسی نسل، زبان یا تہذیب کی میراث نہیں۔
توحید: تمام انبیاء کی مشترک دعوت
اسلام کی بنیاد توحید ہے، یعنی اللہ کو ہر لحاظ سے ایک اور یکتا ماننا۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے، وہی سب کا رب ہے، اور اس کے ناموں اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس کی بندگی میں نہ کسی کو شریک بنایا جاتا ہے، نہ کسی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم الصلاۃ والسلام سمیت تمام انبیاء نے اسی حقیقت کی طرف بلایا۔ اسلام اسی پیغام کا تسلسل بھی ہے اور اس کی تکمیل بھی۔
محمد ﷺ: سراپا رحمت اور اللہ کے آخری رسول
نبی محمد ﷺ کو کسی ایک قوم یا خطے کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے بھیجا گیا۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔" (صحیح بخاری: 335)
آپ ﷺ کا پیغام وحی کی صورت میں محفوظ ہوا، اسے یاد کیا گیا اور اہلِ علم نے پوری احتیاط کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ یوں یہ پیغام ہر زمانے کے انسانوں کے لیے باقی رہا۔
اسلام کے پانچ ارکان: دنیا بھر کے مسلمانوں کی مشترک عبادات
اسلام کا آفاقی پیغام اس کی بنیادی عبادات میں بھی نظر آتا ہے۔ انہیں اسلام کے پانچ ارکان کہا جاتا ہے۔ مسلمان جہاں بھی رہتا ہو اور جس تہذیب سے بھی تعلق رکھتا ہو، یہی ارکان اس کی زندگی کو ترتیب دیتے ہیں۔
۱۔ شہادت: اس بات کا اقرار کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔
۲۔ نماز: دن رات میں پانچ نمازیں، جو بندے کا تعلق اللہ سے مسلسل قائم رکھتی ہیں۔
۳۔ زکوٰۃ: مال کا مقررہ حصہ، جو غریبوں اور دوسرے مستحق لوگوں کو دینا فرض ہے۔
۴۔ روزہ: رمضان کے مہینے میں صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور ازدواجی تعلق سے رکنا، تاکہ نفس کی تربیت ہو۔
۵۔ حج: مکہ مکرمہ جا کر حج ادا کرنا، جو استطاعت رکھنے والوں پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
حج: پوری انسانیت کے لیے اسلام کے پیغام کی زندہ تصویر
حج میں پوری انسانیت کے لیے اسلام کا پیغام نمایاں نظر آتا ہے۔ ہر سال مختلف نسلوں، زبانوں اور سماجی طبقوں کے لاکھوں لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ لباس کی یکساں سادگی، ایک ہی طرح کے مناسک اور ایک ہی رب کی عبادت انہیں ایک لڑی میں پرو دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
حج دنیاوی امتیازات مٹا کر یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے حضور سب برابر کھڑے ہیں اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کو یوں بیان فرماتا ہے:
ایمان کے چھ بنیادی عقائد
اسلام میں ظاہری فرمانبرداری کے ساتھ دل کا یقین بھی ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایمان کے چھ بنیادی عقائد بتائے ہیں:
۱۔ اللہ پر ایمان
۲۔ اس کے فرشتوں پر ایمان
۳۔ اس کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان
۴۔ اس کے رسولوں پر ایمان
۵۔ آخرت کے دن پر ایمان
۶۔ تقدیر پر ایمان، خواہ وہ اچھی ہو یا بری
یہ عقائد انسان کو زندگی اور کائنات کو سمجھنے کا ایک جامع زاویہ دیتے ہیں۔ ان کی روشنی میں وہ اپنے وجود، اچھائی اور برائی، تقدیر اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا مفہوم سمجھتا ہے۔
احسان: اللہ کی نگاہ میں ہونے کے احساس کے ساتھ عبادت
اسلام اور ایمان کے ساتھ احسان کا مقام بھی ہے، یعنی عبادت کو اس کی بہترین صورت میں ادا کرنا۔ نبی کریم ﷺ سے احسان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
”تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔“ (صحیح مسلم: 8)
احسان عبادت کو محض معمول کی ادائیگی سے آگے لے جاتا ہے اور اسے شعور و احساس کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ اس سے اخلاص، اپنے کردار کی نگرانی اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ یہ روحانی بلندی ہر شخص حاصل کر سکتا ہے، چاہے معاشرے میں اس کا مقام کچھ بھی ہو۔
قرآن: وحی، حفاظت اور پوری انسانیت کی رہنمائی
قرآن مجید اسلام کی بنیادی مقدس کتاب ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے، جو فرشتے جبریل علیہ السلام کے ذریعے تقریباً تئیس برس میں نبی محمد ﷺ پر نازل ہوا۔ یہ مذہب کے بارے میں کسی انسان کے خیالات کا مجموعہ نہیں، بلکہ براہِ راست اللہ کی وحی ہے، جس کی تلاوت انہی الفاظ میں کی جاتی ہے جن میں وہ نازل ہوئی، اور جو لفظ بہ لفظ محفوظ ہے۔
قرآن کی حفاظت کیسے ہوئی؟
نزول کے آغاز ہی سے قرآن کی حفاظت دو طریقوں سے ہوتی رہی: اسے حفظ کرنا اور تحریری صورت میں محفوظ رکھنا۔
حفظِ قرآن
نبی کریم ﷺ نے قرآن یاد کیا اور صحابہ کو خود پڑھ کر سکھایا۔ بہت سے صحابہ نے پورا قرآن حفظ کر لیا۔ سینہ بہ سینہ اسے منتقل کرنے کا یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان، جن میں بچے بھی شامل ہیں، پورا قرآن اس کی اصل عربی زبان میں لفظ بہ لفظ یاد کیے ہوئے ہیں۔ دنیا کی بڑی مذہبی کتابوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
تحریری تدوین
نبی کریم ﷺ کی زندگی ہی میں آپ کی نگرانی میں آیات رق، چمڑے، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھی جاتی تھیں۔ آپ کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن کو ایک مصحف میں جمع کر دیا گیا۔ اس کا متن حرف بہ حرف محفوظ رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کا واضح وعدہ فرمایا ہے:
سب کی دسترس میں، سب کے لیے رہنمائی
قرآن اپنی اصل عربی زبان میں دنیا بھر میں دستیاب ہے، اور اس کے معانی کے معتبر ترجمے تقریباً ہر زبان میں موجود ہیں۔ عقیدہ، اخلاق، قانون، روحانیت اور انسانی رویے، سب اس کی رہنمائی کے موضوعات ہیں۔ یہ رہنمائی کسی ایک تہذیب تک محدود نہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن کے بارے میں فرماتا ہے:
مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے، اسے یاد کرتے، اس کی زبان کو سمجھتے اور تفسیر پڑھتے ہیں۔ اس طرح قرآن کا متن بھی نسل در نسل محفوظ رہتا ہے اور اس کی سمجھ بھی آگے منتقل ہوتی ہے۔
سنت: نبوی رہنمائی اور علمِ حدیث
قرآن اور سنت اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ سنت سے مراد نبی محمد ﷺ کا طریقہ، آپ کی تعلیمات، آپ کے اعمال، اور وہ اقوال و اعمال ہیں جن کی آپ نے تائید فرمائی۔ سنت قرآن کی تعلیمات کی وضاحت کرتی اور ان کی عملی صورت دکھاتی ہے۔ عبادت اور اخلاق سے لے کر روزمرہ کے معاملات تک، یہ بتاتی ہے کہ قرآنی اصولوں کے مطابق زندگی کیسے گزاری جائے۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے بارے میں فرماتا ہے:
سنت احادیث کے ذریعے محفوظ ہوئی ہے؛ یعنی نبی کریم ﷺ سے متعلق وہ روایات جو نہایت احتیاط سے قلم بند اور منتقل کی گئی ہیں۔
علمِ حدیث: روایات کی حفاظت کا کڑا معیار
نبی کریم ﷺ سے منسوب روایات کی صحت جانچنے کے لیے مسلمانوں نے ایک منفرد اور نہایت باریک بین علمی طریقہ وضع کیا، جسے علمِ حدیث کہا جاتا ہے۔ اس علم کی بنیاد ابتدائی دور ہی میں پڑ گئی تھی۔ پھر اسے باقاعدہ اصولوں کی صورت دی گئی تاکہ دین کو من گھڑت باتوں اور غلطیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے اہم پہلو یہ ہیں:
۱۔ سند: روایت ہم تک کن لوگوں کے ذریعے پہنچی؟
ہر حدیث کے ساتھ اسے نقل کرنے والوں کا ایک باقاعدہ سلسلہ بیان کیا جاتا ہے، جو نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ محدثین نے ہر راوی کی سچائی، یادداشت، کردار اور قابلِ اعتماد ہونے کی چھان بین کی۔
۲۔ متن: روایت کے الفاظ کی جانچ
حدیث کے الفاظ کو پرکھا جاتا تھا کہ وہ قرآن، ثابت شدہ سنت، زبان کے اصولوں اور معلوم تاریخی حقائق سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔
۳۔ درجہ بندی
سخت علمی معیار کی بنیاد پر احادیث کو صحیح، حسن اور ضعیف درجوں میں تقسیم کیا گیا۔ عقائد اور شرعی احکام میں صرف صحیح اور حسن احادیث کو دلیل بنایا جاتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسے بڑے مجموعے کئی دہائیوں کے علمی سفر، تحقیق اور روایات کی باہمی جانچ کا حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر امام بخاری کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے لاکھوں روایات کو پرکھا، لیکن اپنے سخت معیار پر پورا اترنے والی نسبتاً بہت کم روایات کو اپنے مجموعے میں جگہ دی۔
سنت تک رسائی اور تعلیم کا جاری سلسلہ
آج سنت کے محفوظ عربی متون، معتبر تراجم اور اہلِ علم کی تشریحات وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان درس گاہوں میں بھی اور ذاتی طور پر بھی حدیث پڑھتے ہیں۔ وہ روایات یاد کرتے، ان کی سندوں کا مطالعہ کرتے اور ان کی رہنمائی پر عمل کرتے ہیں۔
سنت نماز، صدقہ و زکوٰۃ، روزے اور حج کی عملی صورت واضح کرتی ہے۔ ساتھ ہی کردار، خاندانی زندگی اور سماجی ذمہ داریوں میں رہنمائی دیتی ہے۔ یوں قرآن کی تعلیمات جیتی جاگتی زندگی میں ڈھل کر سامنے آتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"يا أيُّها النّاسُ، إنِّي قَد تَرَكتُ فيكُم ما إنِ اعتَصَمتُم به فلَن تَضِلّوا أبَدًا، كِتابَ اللهِ، وسُنَّةَ نَبيِّه"
"لوگو! میں تمہارے درمیان وہ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جنہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔" (بیہقی نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
ہر دور اور ہر جگہ کے لیے ہدایت
قرآن اور سنت مل کر پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا ایک مکمل، محفوظ اور قابلِ رسائی نظام پیش کرتے ہیں۔ انہیں پوری احتیاط سے آگے منتقل کیا گیا، بڑے پیمانے پر یاد کیا گیا اور اہلِ علم نے ان کی مسلسل جانچ کی۔ اسی لیے ان کا تسلسل کسی مذہبی ادارے کے خفیہ علم یا وقت کے ساتھ بدلتے عقائد کا محتاج نہیں۔
مسلمانوں کے لیے یہ حفاظت صرف تاریخ کی ایک بات نہیں؛ روزانہ کی تلاوت، مطالعے، عمل اور اپنے کردار کے محاسبے میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے لیے بھی یہ ایک کھلی دعوت ہے۔ قرآن چودہ صدیوں سے زیادہ عرصے سے لوگوں کے درمیان پڑھا، یاد کیا اور اپنی اصل زبان میں محفوظ رکھا جاتا رہا ہے۔ کوئی بھی اسے پڑھ سکتا ہے، اس پر غور کر سکتا ہے اور سچے دل سے اسے سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اسلام اندھی تقلید کا مطالبہ نہیں کرتا؛ وہ پڑھنے، سوچنے اور اس کے پیغام کو سنجیدگی سے پرکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ جو لوگ دیانت داری سے اس کی طرف آتے ہیں، انہیں محض مطالعے تک رک جانے کے بجائے اس دعوے کو پہچاننے کی دعوت دی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی وحی ہے، اور اس کی ہدایت قبول کرنے کو کہا جاتا ہے: صرف اللہ کی عبادت اور آخری رسول محمد ﷺ کی پیروی۔
آخرت: اعمال کی جواب دہی اور اللہ کا انصاف
اسلام انسان کو آخرت پر ایمان کی بنیاد پر زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر شخص دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
ہمیشہ کی جنت کسے ملے گی؟
جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کو ایک اور یکتا مانتے ہیں، رسول ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، نیکی کی کوشش کرتے ہیں اور گناہ ہو جائے تو سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
جہنم میں کون جائے گا؟
جہنم ان لوگوں کے لیے ہے جو حق واضح ہو جانے کے بعد جان بوجھ کر اللہ اور اس کے دین کا انکار کریں اور تکبر و کفر پر اڑے رہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے:
یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جو موت تک کفر پر قائم رہیں۔ موت سے پہلے توبہ کرنے والوں کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے۔
جن تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچا
اسلام بتاتا ہے کہ اللہ کا انصاف ہر عیب سے پاک ہے۔ جن لوگوں تک اسلام کا پیغام واضح اور سمجھ میں آنے والی صورت میں نہیں پہنچا، انہیں ناحق سزا نہیں دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
ایسے لوگوں کا فیصلہ اللہ اپنی حکمت اور انصاف کے مطابق فرمائے گا، اور قیامت کے دن ان کی مناسب آزمائش ہوگی۔
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ﷺ قَالَ: أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ فَيَقُولُ: رَبِّ مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ، فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا
"سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ قیامت کے دن چار قسم کے لوگ ہوں گے (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی۔ چنانچہ بہرا آدمی اعراض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن میں کچھ سن ہی نہ سکا احمق عرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن بچے مجھ پر مینگینیاں برساتے تھے بوڑھاعرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن اس وقت میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور فترت وحی کے زمانے میں مرنے والاک ہے گا کہ پروردگار میرے پاس تیرا کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا اللہ ان سے یہ وعدہ لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کر یں گے اور پھر انہیں حکم دے گا کہ جہنم میں داخل ہو جائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ جہنم میں داخل ہو گئے تو وہ ان کے لئے ٹھنڈی اور باعث سلامتی بن جائے گی۔"
اس روایت کی سند جید ہے۔ اسے احمد (16301) نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن حبان (7357)، اسحاق بن راہویہ (41) اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (1/287، حدیث: 841) میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔
حاصلِ کلام
اسلام پوری انسانیت کے لیے ایسا پیغام پیش کرتا ہے جس کی بنیاد توحید ہے، جس کی عملی مثال آخری رسول ﷺ کی زندگی میں ملتی ہے، اور جس کے مطابق زندگی عبادت سے ترتیب پاتی اور آخرت کی جواب دہی سے اپنا پورا مفہوم حاصل کرتی ہے۔ اسلام انسانوں کو الگ الگ شناختوں کے حامل حریف گروہوں کے طور پر نہیں دیکھتا۔ اس کی نظر میں سب ایک ہی رب کی مخلوق ہیں، اسی کے حضور کھڑے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں؛ ایک ایسی واپسی کی طرف جس سے کسی کو مفر نہیں۔
دعا
اللَّهمَّ اهدِني فيمن هديتَ وعافِني فيمن عافيتَ وتولَّني فيمن تولَّيتَ وبارِك لي فيما أعطيتَ وقني شرَّ ما قضيتَ فإنَّكَ تقضي ولا يُقضى عليكَ وإنَّهُ لا يذلُّ من واليتَ تباركتَ ربَّنا وتعاليتَ
"اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔"
(اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔)