سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
29:4
يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحيما ٢٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا ٢٩
يٰۤـاَيُّهَا
الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوۡا
لَا
تَاۡكُلُوۡۤا
اَمۡوَالَـكُمۡ
بَيۡنَكُمۡ
بِالۡبَاطِلِ
اِلَّاۤ
اَنۡ
تَكُوۡنَ
تِجَارَةً
عَنۡ
تَرَاضٍ
مِّنۡكُمۡ​
وَلَا
تَقۡتُلُوۡۤا
اَنۡـفُسَكُمۡ​ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِكُمۡ
رَحِيۡمًا‏
٢٩
اے اہل ایمان اپنے مال آپس میں باطل طریقے پر ہڑپ نہ کرو سوائے اس کے کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے اور نہ اپنے آپ کو قتل کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
خرید و فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خوری، قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دوں گا آپ نے اس آیت کی تلاوت کر دی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:217/8] ‏

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہو سکتی ہے، آپ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت «لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ» الخ [24النور:61] ‏ اتری۔

«تِجَارَةً» کو «تِجَارَةٌ» بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ حرمت والے اسباب سے مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے نفع اٹھانا جائز ہے جو خریدار اور بیچنے والے کی باہم رضا مندی سے ہو۔

جیسے دوسری جگہ ہے «وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ» [6-الأنعام:151] ‏ یعنی ” کسی بےگناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے ساتھ ہو تو جائز ہے “۔

اور جیسے دوسری آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ» [44-الدخان:56] ‏ وہاں موت نہ چکھیں گے مگر پہلی بار کی موت۔

صفحہ نمبر1633

امام شافعی رحمہ اللہ اس آیت سے استدلال کر کے فرماتے ہیں خرید و فروخت بغیر قبولیت کے صحیح نہیں ہوتی اس لیے کہ رضا مندی کی پوری سند یہی ہے گو صرف لین دین کر لینا کبھی کبھی رضا مندی پر پوری دلیل نہیں بن سکتا اور جمہور اس کے برخلاف ہیں، تینوں اور اماموں کا قول ہے کہ جس طرح زبانی بات چیت رضا مندی کی دلیل ہے اسی طرح لین دین بھی رضا مندی کی دلیل ہے۔

بعض حضرات فرماتے ہیں کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر1634

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں خرید و فروخت ہو یا بخشش ہو سب کے لیے حکم شامل ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی مرفوع حدیث میں ہے تجارت ایک دوسرے کی رضا مندی ہے اور بیوپار کے بحد اختیار ہے، گویا کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو تجارت کے نام سے دھوکہ دے، یہ حدیث مرسل ہے پوری رضا مندی میں مجلس کے خاتمہ تک کا اختیار بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دونوں بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں بااختیار ہیں۔ [صحیح بخاری:2108] ‏

صحیح بخاری میں ہے جب دو شخص خرید و فروخت کریں تو ہر ایک کو اختیار ہے جب تک الگ الگ نہ ہوں۔ [صحیح بخاری:2109،2111] ‏

اسی حدیث کے مطابق امام احمد، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم اور ان کے سب ساتھیوں کا فتویٰ ہے جمہور سلف و خلف رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی فتویٰ ہے اور اس پوری رضا مندی میں شامل ہے خرید و فروخت کے تین دن بعد تک اختیار دینا رضا مندی میں شامل ہے بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے مطابق سال بھر کی بھی ہو سکتی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب یہی ہے گو ان کے نزدیک صرف لین دین سے ہی بیع صحیح ہو جاتی ہے۔ شافعی مذہب میں بھی ایک قول یہ ہے اور ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں لوگ بیوپار کے لیے رکھتے ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے۔ بعض اصحاب کا اختیار سے مراد یہی ہے جیسے کہ متفق علیہ ہے۔

صفحہ نمبر1635

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حرام کاموں کا ارتکاب کر کے اور اس کی نافرمانیاں کر کے اور ایک دوسرے کا بیجا طور پہ مال کھا کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو اللہ تم پر رحیم ہے ہر حکم اور ہر ممانعت رحمت والی ہے۔

صفحہ نمبر1636
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں