سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
253:2
۞ تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس ولو شاء الله ما اقتتل الذين من بعدهم من بعد ما جاءتهم البينات ولاكن اختلفوا فمنهم من امن ومنهم من كفر ولو شاء الله ما اقتتلوا ولاكن الله يفعل ما يريد ٢٥٣
۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَـٰتٍۢ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ وَلَـٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ٢٥٣
۞ تِلۡكَ
الرُّسُلُ
فَضَّلۡنَا
بَعۡضَهُمۡ
عَلٰى
بَعۡضٍ​ۘ
مِنۡهُمۡ
مَّنۡ
كَلَّمَ
اللّٰهُ​
وَرَفَعَ
بَعۡضَهُمۡ
دَرَجٰتٍ​ؕ
وَاٰتَيۡنَا
عِيۡسَى
ابۡنَ
مَرۡيَمَ
الۡبَيِّنٰتِ
وَاَيَّدۡنٰهُ
بِرُوۡحِ
الۡقُدُسِ​ؕ
وَلَوۡ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَا
اقۡتَتَلَ
الَّذِيۡنَ
مِنۡۢ
بَعۡدِهِمۡ
مِّنۡۢ
بَعۡدِ
مَا
جَآءَتۡهُمُ
الۡبَيِّنٰتُ
وَلٰـكِنِ
اخۡتَلَفُوۡا
فَمِنۡهُمۡ
مَّنۡ
اٰمَنَ
وَمِنۡهُمۡ
مَّنۡ
كَفَرَ​ؕ
وَلَوۡ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَا
اقۡتَتَلُوۡا
وَلٰـكِنَّ
اللّٰهَ
يَفۡعَلُ
مَا
يُرِيۡدُ‏
٢٥٣
ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بڑے کھلے معجزے دیے اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل (ؑ) کے ساتھ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
ذِکر مدارج الانبیاء ٭٭

یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا» [ 17-الإسراء: 55 ] ‏ ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد علیہ السلام کو ہم نے زبور دی، یہاں بھی اسی کا ذِکر کر کے فرماتا ہے «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ» ان میں سے بعض کو شرف ہمکلامی بھی نصیب، ہوا جیسا موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آدم علیہ السلام، صحیح ابن حبان میں حدیث ہے۔ [صحیح ابن حبان361] ‏ جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کس نبی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ کس آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے۔

ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لیے گئے، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ [صحیح بخاری:3413] ‏،

ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو [صحیح بخاری:3413] ‏، پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے، لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں، ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے۔

صفحہ نمبر887

دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر، تیسرا جواب یہ ہے کہ ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک کو ایک پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا، چوتھا جواب یہ ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی صرف اپنی رائے، اپنے خیال اور اپنے ذہنی تعصب سے اپنے نبی علیہ السلام کو دوسرے نبی علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، پانچواں جواب یہ ہے کہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تمہارے بس کا نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو، تمہارا کام تسلیم کرنا اور ایمان لانا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو واضح دلیلیں اور پھر ایسی حجتیں عطا فرمائی تھیں جن سے بنی اسرائیل پر صاف واضح ہو گیا کہ آپ علیہ السلام کی رسالت بالکل سچی ہے اور ساتھ ہی آپ علیہ السلام کی یہ حیثیت بھی واضح ہو گئی کہ مثل اور بندوں کے آپ علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور بے کس غلام ہیں، اور روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام سے ہم نے ان کی تائید کی۔ پھر فرمایا کہ بعد والوں کے اختلاف بھی ہمارے قضاء و قدر کا نمونہ ہیں، ہماری شان یہ ہے کہ جو چاہیں کریں، ہمارے کسی ارادے سے مراد جدا نہیں۔

صفحہ نمبر888
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں