سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
246:2
الم تر الى الملا من بني اسراييل من بعد موسى اذ قالوا لنبي لهم ابعث لنا ملكا نقاتل في سبيل الله قال هل عسيتم ان كتب عليكم القتال الا تقاتلوا قالوا وما لنا الا نقاتل في سبيل الله وقد اخرجنا من ديارنا وابناينا فلما كتب عليهم القتال تولوا الا قليلا منهم والله عليم بالظالمين ٢٤٦
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰٓ إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِىٍّۢ لَّهُمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِكًۭا نُّقَـٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَـٰتِلُوا۟ ۖ قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَـٰتِلَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَـٰرِنَا وَأَبْنَآئِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ ٢٤٦
اَلَمۡ
تَرَ
اِلَى
الۡمَلَاِ
مِنۡۢ
بَنِىۡٓ
اِسۡرَآءِيۡلَ
مِنۡۢ
بَعۡدِ
مُوۡسٰى​ۘ
اِذۡ
قَالُوۡا
لِنَبِىٍّ
لَّهُمُ
ابۡعَثۡ
لَنَا
مَلِکًا
نُّقَاتِلۡ
فِىۡ
سَبِيۡلِ
اللّٰهِ​ؕ
قَالَ
هَلۡ
عَسَيۡتُمۡ
اِنۡ
کُتِبَ
عَلَيۡکُمُ
الۡقِتَالُ
اَلَّا
تُقَاتِلُوۡا ؕ
قَالُوۡا
وَمَا
لَنَآ
اَلَّا
نُقَاتِلَ
فِىۡ
سَبِيۡلِ
اللّٰهِ
وَقَدۡ
اُخۡرِجۡنَا
مِنۡ
دِيَارِنَا
وَاَبۡنَآٮِٕنَا ​ؕ
فَلَمَّا
کُتِبَ
عَلَيۡهِمُ
الۡقِتَالُ
تَوَلَّوۡا
اِلَّا
قَلِيۡلًا
مِّنۡهُمۡ​ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِيۡمٌۢ
بِالظّٰلِمِيۡنَ‏
٢٤٦
کیا تم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں جو انہیں موسیٰ کے بعد پیش آیا ؟ جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کردی جائے تو اس وقت تم جنگ نہ کرو انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں ؟ جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو سب پیٹھ پھیر گئے سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب باخبر ہے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
بنی اسرائیل پر ایک اور احسان ٭٭

جس نبی علیہ السلام کا یہاں ذِکر ہے ان کا نام قتادہ رحمہ اللہ نے یوشع بن نون بن افرایم بن یوسف بن یعقوب علیہ السلام بتایا ہے، لیکن یہ قول ٹھیک معلوم نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا داؤد علیہ السلام کے زمانے کا ہے، جیسا کہ صراحتاً وارد ہوا ہے، اور داؤد اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ پیغمبر شمعون علیہ السلام ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:293/5] ‏، مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ شمویل بن بالی بن علقمہ بن ترخان بن یہدبن بن بہرض بن عقلمہ بن ماجب بن عمر صابن بن عزریا صفنیہ بن علقمہ با ابو ہاشف بن قارون بن یصہر بن قاحث بن لاوی بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں،

واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کچھ زمانہ تک تو بنی اسرائیل راہِ حق پر رہے، پھر شرک و بدعت میں پڑ گئے مگر تاہم ان میں پے در پے انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے رہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی بے باکیاں حد سے گزر گئیں، اب اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر غالب کر دیا، خوب پٹے کٹے، اور اجڑے گئے، پہلے تو توراۃ کی موجودگی تابوت سکینہ کی موجودگی جو موسیٰ علیہ السلام سے موروثی چلی آ رہی تھی ان کیلئے باعث غلبہ ہوتی تھی، مگر ان کی سرکشی اور بدترین گناہوں کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی یہ نعمت بھی ان کے ہاتھوں چھن گئی اور نبوت بھی ان کے گھر میں ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر875

لاوی جن کی اولاد میں پیغمبری کی نسل چل آ رہی تھی، وہ سارے کے سارے لڑائیوں میں مر کھپ گئے، ان میں سے صرف ایک حاملہ عورت رہ گئی تھی، ان کے خاوند بھی قتل ہو چکے تھے اب بنی اسرائیل کی نظریں اس عورت پر تھیں، انہیں امید تھی کہ اللہ اسے لڑکا دے گا اور وہ لڑکا نبی بنے، خود ان بیوی صاحبہ کی بھی دن رات یہی دعا تھی جو اللہ نے قبول فرمائی اور انہیں لڑکا دیا جن کا نام شمویل یا شمعون علیہ السلام رکھا، اس کے لفظی معنی ہیں کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی، نبوت کی عمر کو پہنچ کر انہیں بھی نبوت ملی، جب آپ علیہ السلام نے دعوت نبوت دی تو قوم نے درخواست کی کہ آپ ہمارا بادشاہ مقرر کر دیجئیے تاکہ ہم اس کی ماتحتی میں جہاد کریں، بادشاہ تو ظاہر ہو ہی گیا تھا لیکن پیغمبر نے اپنا کھٹکا بیان کیا کہ تم پھر جہاد سے جی نہ چراؤ؟ قوم نے جواب دیا کہ ہمارے ملک ہم سے چھین لئیے گئے، ہمارے بال بچے گرفتار کئے گئے اور پھر بھی کیا ہم ایسے بے ہمت ہیں کہ مرنے مارنے سے ڈریں؟ اب جہاد فرض کر دیا گیا اور حکم ہوا کہ بادشاہ کے ساتھ اٹھو، بس سنتے ہی سُن ہو گئے اور سوائے معدودے چند کے باقی سب نے منہ موڑ لیا، ان سے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، جس کا اللہ کو علم نہ ہو۔

صفحہ نمبر876
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں