سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
87:2
ولقد اتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون ٨٧
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ بِٱلرُّسُلِ ۖ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًۭا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًۭا تَقْتُلُونَ ٨٧
وَ لَقَدۡ
اٰتَيۡنَا
مُوۡسَى
الۡكِتٰبَ
وَقَفَّيۡنَا
مِنۡۢ
بَعۡدِهٖ
بِالرُّسُلِ​
وَاٰتَيۡنَا
عِيۡسَى
ابۡنَ
مَرۡيَمَ
الۡبَيِّنٰتِ
وَاَيَّدۡنٰهُ
بِرُوۡحِ
الۡقُدُسِ​ؕ
اَفَكُلَّمَا
جَآءَكُمۡ
رَسُوۡلٌۢ
بِمَا
لَا
تَهۡوٰٓى
اَنۡفُسُكُمُ
اسۡتَكۡبَرۡتُمۡ​ۚ
فَفَرِيۡقًا
كَذَّبۡتُمۡ
وَفَرِيۡقًا
تَقۡتُلُوۡنَ‏
٨٧
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی تورات) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑی واضح نشانیاں دیں اور ہم نے مدد کی ان کی روح القدس کے ساتھ پھر بھلا کیا جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز لے کر جو تمہاری خواہشات نفس کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا) پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کردیا
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
خود پرست اسرائیلی ٭٭

بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی شریعت آنے والے انبیاء کی بھی مخالفت کی چنانچہ فرمایا «اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ» [ 5۔ المائدہ: 44 ] ‏ یعنی ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا جس پر انبیاء علیہ السلام بھی خود بھی عمل کرتے اور یہودیوں کو بھی ان کے علماء اور درویش ان پر عمل کرنے کا حکم کرتے تھے غرض پے در پے یکے بعد دیگرے انبیاء کرام بنی اسرائیل میں آتے رہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا انہیں انجیل ملی جس میں بعض احکام توراۃ کے خلاف بھی تھے اسی لیے انہیں نئے نئے معجزات بھی ملے جیسے مردوں کو بحکم رب العزت زندہ کر دینا مٹی سے پرند بنا کر اس میں پھونک مار کر بحکم رب العزت اڑا دینا، بیماروں کو اپنے دم جھاڑے سے رب العزت کے حکم سے اچھا کر دینا، بعض بعض غیب کی خبریں رب العزت کے معلوم کرانے سے دینا وغیرہ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:268/1] ‏ آپ کی تائید پر روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کو لگا دیا لیکن بنی اسرائیل اپنے کفر اور تکبر میں اور بڑھ گئے اور زیادہ حسد کرنے لگے اور ان تمام انبیاء کرام کے ساتھ برے سلوک سے پیش آئے۔ کہیں جھٹلاتے اور کہیں مار ڈالتے تھے محض اس بنا پر کہ انبیاء علیہ السلام کی تعلیم ان کی طبیعتوں کے خلاف ہوا کرتی تھی ان کی رائے اور انہیں ان کے قیاسات اور ان کے بنائے ہوئے اصول و احکام ان کی قبولیت سے ٹکراتے تھے اس لیے دشمنی پر تل جاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ محمد بن کعب اسمٰعیل بن خالد سدی ربیع بن انس عطیہ عوفی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول یہی ہے کہ روح القدس سے مراد جبرائیل ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:270/1] ‏ جیسے قرآن شریف میں اور جگہ ہے «نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ» [ 26۔ الشعرآء: 193 ] ‏ یعنی اسے لے کر روح امین اترے ہیں۔

صحیح بخاری میں تعلیقاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان شاعر کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا وہ مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور آپ ان کے لیے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عزوجل حسان کی مدد روح القدس سے فرما جیسے کہ یہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے ہیں۔ [سنن ابوداود:5015، قال الشيخ الألباني:صحیح ] ‏

صفحہ نمبر361

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہا خلافت فاروقی کے زمانے میں ایک مرتبہ مسجد نبوی میں کچھ اشعار پڑھ رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف تیز نگاہیں اٹھائیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت بھی ان شعروں کو یہاں پڑھتا تھا جب یہاں تم سے بہتر شخص موجود تھے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمہیں اللہ کی قسم کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا؟ کہ اے حسان تو مشرکوں کے اشعار کا جواب دے اے اللہ تعالیٰ تو حسان رضی اللہ عنہ کی تائید روح القدس سے کر۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے۔ [صحیح بخاری:3212 ] ‏

صفحہ نمبر362

بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا حسان رضی اللہ عنہ تم ان مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ [صحیح بخاری:3213] ‏ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعر میں بھی جبرائیل کو روح القدس کہا گیا ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اللہ کی قسم اللہ کی نعمتوں کو یاد کر کے کہو کیا خود تمہیں معلوم نہیں کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور وہی میرے پاس بھی وحی لاتے ہیں ان سب نے کہا بیشک [ ابن اسحاق ] ‏ ابن حبان میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام نے میرے دل میں کہا کہ کوئی شخص اپنی روزی اور زندگی پوری کئے بغیر نہیں مرتا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور دنیا کمانے میں دین کا خیال رکھو۔ [بغوی فی شرح السنة:4111:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر363

بعض نے روح القدس سے مراد اسم اعظم لیا ہے بعض نے کہا ہے فرشتوں کا ایک سردار فرشتہ ہے بعض کہتے ہیں قدس سے مراد اللہ تعالیٰ اور روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہے کسی نے کہا ہے قدس یعنی برکت کسی نے کہا ہے پاک کسی نے کہا ہے روح سے مراد انجیل ہے جیسے فرمایا «وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» [ 42۔ الشوری: 52 ] ‏ یعنی اسی طرح ہم نے تیری طرف روح کی وحی اپنے حکم سے کی۔

امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فیصلہ یہی ہے کہ یہاں مراد روح القدس سے جبرائیل ہیں جیسے اور جگہ ہے «إِذْ قالَ اللهُ يا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلى والِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ» [ 5-المائدہ-110 ] ‏ اس آیت میں روح القدس کی تائید کے ذکر کے ساتھ کتاب و حکمت توراۃ و انجیل کے سکھانے کا بیان ہے معلوم ہوا کہ یہ اور چیز ہے اور وہ اور چیز علاوہ ازیں روانی عبارت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

صفحہ نمبر364

قدس سے مراد مقدس ہے جیسے (‏ھَاتِمٌ جُوْدٌ اور رَجُلٌ صِدٗقٌ)‏ میں روح القدس کہنے میں اور رُوحٌ مِّنْهُ۔ [4-النساء:171] ‏ کہنے میں قربت اور بزرگی کی ایک خصوصیت پائی جاتی ہے یہ اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ یہ روح مردوں کی پیٹھوں اور حیض والے رحموں سے بے تعلق رہی ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی پاکیزہ روح لی ہے پھر فرمایا کہ ایک فرقے کو تم نے جھٹلایا اور ایک فرقے کو تم قتل کرتے ہو جھٹلانے میں ماضی کا صیغہ لائے لیکن قتل میں مستقبل کا اس لیے کہ ان کا حال آیت کے نزول کے وقت بھی یہی رہا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا کہ اس زہر آلود لقمہ کا اثر برابر مجھ پر رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اس وقت اس نے رک رک کر جان کاٹ دی۔ [صحیح بخاری:4428] ‏

صفحہ نمبر365
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں