وَكَذٰلِكَ
مَاۤ
اَرْسَلْنَا
مِنْ
قَبْلِكَ
فِیْ
قَرْیَةٍ
مِّنْ
نَّذِیْرٍ
اِلَّا
قَالَ
مُتْرَفُوْهَاۤ ۙ
اِنَّا
وَجَدْنَاۤ
اٰبَآءَنَا
عَلٰۤی
اُمَّةٍ
وَّاِنَّا
عَلٰۤی
اٰثٰرِهِمْ
مُّقْتَدُوْنَ
۟
اور (اے نبی ﷺ !) اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کو مگر اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اَجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم کی اقتدا کر رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ “ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْر
باب…
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہ