یَحْلِفُوْنَ
بِاللّٰهِ
مَا
قَالُوْا ؕ
وَلَقَدْ
قَالُوْا
كَلِمَةَ
الْكُفْرِ
وَكَفَرُوْا
بَعْدَ
اِسْلَامِهِمْ
وَهَمُّوْا
بِمَا
لَمْ
یَنَالُوْا ۚ
وَمَا
نَقَمُوْۤا
اِلَّاۤ
اَنْ
اَغْنٰىهُمُ
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗ
مِنْ
فَضْلِهٖ ۚ
فَاِنْ
یَّتُوْبُوْا
یَكُ
خَیْرًا
لَّهُمْ ۚ
وَاِنْ
یَّتَوَلَّوْا
یُعَذِّبْهُمُ
اللّٰهُ
عَذَابًا
اَلِیْمًا ۙ
فِی
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةِ ۚ
وَمَا
لَهُمْ
فِی
الْاَرْضِ
مِنْ
وَّلِیٍّ
وَّلَا
نَصِیْرٍ
۟
یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔1 وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔2 یہ ان کا سارا غصّہ اسی بات پر ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا3 ہے ! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آجائیں تو انہی کے لیےبہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
چار تلواریں؟ ٭٭…
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ
چار تلواریں؟ ٭٭…
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث